ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) جو کہ پاور ڈویژن کا ذیلی ادارہ ہے، جنریشن کمپنیوں (جنکوز) کے ملازمین کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں ایڈجسٹ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پاور ڈویژن نے پی پی ایم سی کے منیجنگ ڈائریکٹر عابد لودھی کو ایک خط میں آگاہ کیا ہے کہ جنکوز ختم ہونے کے عمل میں ہیں اور ان کے تمام پرانے اور ناکارہ بجلی گھروں کو ختم کیا جا چکا ہے، جبکہ کچھ یونٹس کو توڑنے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق، جنکوز کے ملازمین کے مستقبل کا فیصلہ کرنے اور مختلف آپشنز پر غور کرنے کے لیے وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ کے دفتر میں ایک اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری پاور ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن، سی ای او جی ایچ سی ایل اور پاور سیکٹر میں اسٹرکچرل ریفارمز پر عمل درآمد کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنکوز کے ملازمین کو ڈسکوز میں ضم/ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ وزیر اعظم سے منظور شدہ اس فیصلے کو وزارتِ اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ نے 30 اپریل 2025 کو ایک مراسلے کے ذریعے آگے پہنچایا۔

جی ایچ سی ایل نے تمام جنکوز ملازمین کا ڈیٹا پی پی ایم سی کو فراہم کیا تاکہ انہیں ان کے آپشنز کے مطابق ڈسکوز میں ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ بعد ازاں 1127 ملازمین کو 10 جون 2025 کو فارغ کیا گیا جبکہ 1775 ملازمین کو 13 جون 2025 کو ریلیو کیا گیا۔

پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق میپکو، لیسکو، پیسکو اور ہیزکو نے ابھی تک ایڈجسٹمنٹ آرڈرز جاری نہیں کیے، جبکہ دیگر ڈسکوز نے یا تو جنکوز ملازمین کو بہت کم درجے پر ایڈجسٹ کیا ہے یا واپس جنکوز کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام اُس اعلیٰ سطح کے فیصلے کے خلاف ہے جس کے تحت تمام جنکوز ملازمین کو ڈسکوز میں ایڈجسٹ کیا جانا تھا اور یوں منظور شدہ ایڈجسٹمنٹ/ضم کرنے کی اسکیم ناکام ہو رہی ہے۔

پاور ڈویژن نے پی پی ایم سی کو ہدایت کی ہے کہ:(i) تمام ڈسکوز کو جنکوز ملازمین کو ان کے آپشنز کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہوگا؛(ii) ملازمین کو ان کی اہلیت کے مطابق مساوی پے اسکیل میں ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے؛(iii) اگر بعض کیٹیگریز کے لیے ڈسکوز میں اسامی دستیاب نہ ہو یا سروس رولز کے فرق یا دیگر رکاوٹوں کے باعث مسئلہ ہو تو ایسے ملازمین کو پہلے سے دستیاب اسامیوں پر ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے؛(iv) ڈسکوز کو اپنے ملازمین کے لیے ایک خصوصی پول بنانا چاہیے، تاکہ وہ جس بھی بنیادی پے اسکیل (بی پی ایس) میں ہوں، انہیں شامل کیا جا سکے۔ تاہم ڈسکوز ان کی خدمات کو ان کی مہارت اور تجربے کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں؛(v) چونکہ جنکوز نے اپنے ملازمین کو 10 اور 13 جون 2025 کو ریلیو کر دیا تھا لیکن ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کے باعث وہ اپنی تنخواہیں وصول نہیں کر پا رہے۔

پاور ڈویژن نے ہدایت دی ہے کہ ڈسکوز فوری طور پر ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ حل کریں اور یقینی بنائیں کہ جو ملازمین ڈیوٹی پر رپورٹ کر رہے ہیں انہیں باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کی جائیں۔ پی پی ایم سی کو کہا گیا ہے کہ وہ یہ ہدایات تمام ڈسکوز کو فی الفور پہنچائے۔

دسمبر 2024 میں وزیر اعظم نے ہدایت دی تھی کہ جنریشن کمپنیوں کے ملازمین کو تقسیم کار کمپنیوں میں ایڈجسٹ نہ کیا جائے اور ڈسکوز کو نئے ملازمین کی بھرتی کرنی چاہیے۔

یہ فیصلے حالیہ اجلاس میں کیے گئے جس کی صدارت وزیر اعظم نے کی، جہاں تین ڈسکوز یعنی فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی کارکردگی پر بات چیت ہوئی۔ وزیر اعظم کے الفاظ میں جو ملازمین ضم کیے گئے ہیں انہیں فوراً واپس بھیجا جائے۔ جنکوز کے ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے اور انہیں گولڈن ہینڈ شیک/رضاکارانہ ریٹائرمنٹ دی جائے۔ ڈسکوز اپنی ہیومن ریسورس کی ضروریات کے مطابق نئی بھرتیاں کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025