چین کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے تیز رفتار پھیلاؤ اور جدیدیت کے عمل پر امریکی فوجی حکام اور اسلحہ کنٹرول ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی اسٹریٹیجک کمانڈ کے کمانڈر جنرل انتھونی کاٹن نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی یہ ہدایت کہ چین کی فوج کو 2027 تک تائیوان پر قبضے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جوہری صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اسلحہ زمین، فضا اور سمندر سے داغے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چین اپنی قومی دفاعی پالیسی میں دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پہلے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے اور غیر جوہری ممالک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ بیجنگ کی وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ ایٹمی جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور نہ ہی لڑی جانی چاہیے۔ تاہم پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق چین اپنی حکمتِ عملی میں ایسے حالات شامل رکھتا ہے جن میں روایتی حملے اس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یا جوہری صلاحیت کو خطرے میں ڈالیں تو وہ پہلا جوہری حملہ بھی کر سکتا ہے۔

بیجنگ نے کہا ہے کہ چین سے متعلق ”ایٹمی خطرے“ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دراصل بدنام کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ بولیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس کے مطابق چین کے پاس اس وقت تقریباً 600 جوہری ہتھیار ہیں، اور وہ 350 سے زائد نئے میزائل سائلوز اور موبائل لانچر بیسز بنا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی کے پاس 712 لانچر ہیں جن میں سے 462 ایسے ہیں جو امریکہ تک مار کرنے والے میزائل نصب کر سکتے ہیں۔

پینٹاگون کے اندازے کے مطابق 2030 تک چین کے پاس 1,000 سے زائد فعال جوہری ہتھیار ہوں گے، جن میں کم طاقت والے میزائلوں سے لے کر بڑے بین البراعظمی میزائل تک شامل ہوں گے۔