کاروبار اور معیشت

کراچی میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاروبار: ڈسٹرکٹ چیمبرز کی تشکیل پر زور

  • این اے پینل کو بتایا گیا کہ کے سی سی آئی کے ساتھ نمائندگی کی مرکزیت نے شہر کی کاروباری برادری کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ معمولی امور کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔
شائع August 18, 2025 اپ ڈیٹ August 18, 2025 11:03pm

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو پیر کے روز آگاہ کیا گیا ہے کہ کراچی میں رجسٹرڈ کاروباری اداروں کی تعداد 3 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور میٹروپولیٹن شہر میں ضلع وار چیمبرز کے قیام سے کاروباری سہولتوں میں بہتری اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں توسیع ممکن ہو سکے گی۔

یہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں رکن قومی اسمبلی محمد جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اجلاس میں بتایا گیا کہ ”کراچی میں 3.5 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ کاروباروں کے پیش نظر، سہولیات کی مرکزیت ختم کرتے ہوئے ضلعی سطح پر چیمبرز کا قیام نہ صرف کاروباری ماحول کو بہتر بنائے گا بلکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔“

اجلاس کے دوران تمام جماعتوں کے اراکین نے ضلعوں کو چیمبرز کے قیام کا حق دینے کی حمایت کی، ساتھ ہی اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

کمیٹی نے چیمبرز آف کامرس کے قیام کے قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا، جس میں 2006 اور 2009 میں خواتین کے چیمبرز کے تعارف اور کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت ضروریات کو خاص طور پر نوٹ کیا گیا۔

ارکان نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی اے) کے ساتھ نمائندگی کی مرکزیت نے کاروباری برادری کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، کیونکہ بہت سے کاروباری افراد خدمات حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور ہیں۔

کمیٹی کے چیئرمین نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او) کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں کے سی سی آئی کے نمائندگان کو مدعو کیا جائے، اور واضح کیا کہ کمیٹی اصولی طور پر ضلعی چیمبرز کے قیام کی حمایت کرتی ہے، تاہم آخری فیصلہ کے سی سی آئی کے موقف سننے کے بعد کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کے اعلامیے کے مطابق ”اجلاس میں مختلف چیمبرز کے نمائندے جو لائسنس کے لیے درخواست دے چکے ہیں، بھی موجود تھے اور انہیں اپنے تحفظات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔“

موٹر گاڑیوں کی درآمدات: ’کمرشل درآمدات کے کھلنے سے زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ پڑ سکتا ہے، اس دوران، کمیٹی نے موٹر گاڑیوں کی درآمد کے شعبے کے نمائندوں سے بھی رائے سنی۔

اجلاس میں اس بات پر تشویش ظاہر کی گئی کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی)، جس کا بنیادی کام مینوفیکچرنگ سے متعلق ہے، کو کمرشل درآمدات کے لائسنس جاری کرنے کا کام نہیں سونپا جانا چاہیے، اور اراکین نے تجویز دی کہ یہ ذمہ داری وزارت تجارت کو دی جائے۔

نئی اور استعمال شدہ گاڑیوں کے درمیان منصفانہ مقابلے کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اراکین نے خبردار کیا کہ کمرشل درآمدات کی اجازت دینے سے ملکی صنعت کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ زر مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی پڑ سکتا ہے۔

سیکریٹری وزارت تجارت نے کمیٹی کو مجوزہ پالیسی نکات پر بریفنگ دی، جن میں درآمد شدہ گاڑیوں کی عمر کی حد، ٹیرف ڈھانچے، ماحولیاتی تقاضے، اور موجودہ درآمدی اسکیموں کا انضمام شامل تھا۔

غور و خوض کے بعد کمیٹی نے یہ معاملہ وزارت صنعت کو مزید پالیسی مشاورت کے لیے بھجوانے کا فیصلہ کیا، بالخصوص الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد کے اثرات کے حوالے سے، اور وزارت کو ہدایت دی کہ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو اس پر مفصل بریفنگ دی جائے۔