وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز خیبر پختونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر ملک کے ریسپانس کی ذاتی طور پر نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے، جہاں موسلا دھار مون سون بارشوں نے تباہی مچائی، آبادیوں کو بے گھر کیا اور اہم ٹرانسپورٹ راستوں کو بند کر دیا۔
حالیہ شدید بارشوں کے نتیجے میں خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے مختلف حصوں میں اچانک سیلابی ریلے آئے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو اور ریلیف آپریشن شروع کیے گئے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) زمینی سطح پر کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے اور وزیر اعظم اس کی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال پر نظر رکھ سکیں اور وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر برائے کشمیر اور گلگت بلتستان، امیر مقام نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہنگامی امداد کی تقسیم اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو متعدد ہدایات جاری کیں جن میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں تیزی، امدادی سامان کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی فوری بحالی شامل ہیں۔
انہوں نے حکم دیا کہ متاثرہ خاندانوں کو خیمے، ادویات اور ہنگامی طبی سہولیات ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں۔
وزیر اعظم نے مزید ہدایت کی کہ حساس علاقوں میں بروقت موسمی الرٹس جاری کیے جائیں اور ممکنہ طور پر بحران کی شدت میں اضافے کی صورت میں پیشگی تیاری یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے این ڈی ایم اے کو یہ بھی کہا کہ وہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں صوبائی اور علاقائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ قریبی روابط قائم کرے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہائی ویز پر پھنسے مسافروں تک رسائی کی کوششیں بھی جاری ہیں، جہاں ہنگامی ٹیمیں راستوں کی بحالی اور امداد کی فراہمی میں مصروف ہیں۔
اگرچہ تاحال کسی قسم کے سرکاری جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں بارشیں جاری رہیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025