موڈیز ریٹنگز (موڈیز) نے پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی کارپوریٹ فیملی ریٹنگ (سی ایف آر) کو سی اے اے 2 سے بڑھا کر سی اے اے 1 اور بیس لائن کریڈٹ اسیسمنٹ (بی سی اے) کو سی اے اے 2 سے بڑھا کر سی اے اے 1 کر دیا ہے۔

اسی دوران، موڈیز نے آؤٹ لک کو مثبت سے تبدیل کرکے مستحکم کر دیا، تاہم ساتھ ہی اس نے واپڈا کی کمزور مالی حالت اور نیلم جہلم پاور پراجیکٹ میں مسلسل آپریشنل مسائل پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

موڈیز ریٹنگز کے تجزیہ کار ارمَن ژانگ نے کہا کہ “واپڈا کی سی ایف آر ریٹنگ میں بہتری اور آؤٹ لک میں تبدیلی، حکومتِ پاکستان کی حالیہ ریٹنگ کے اقدام کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ہم آہنگی واپڈا اور ریاست کے درمیان مضبوط کریڈٹ تعلق کو ظاہر کرتی ہے جو حکومت کی مکمل ملکیت، کمپنی پر براہِ راست نگرانی اور واپڈا کی صرف مقامی آپریشنز پر توجہ سے تقویت پاتا ہے۔

یہ ریٹنگ اقدام 13 اگست 2025 کو حکومتِ پاکستان (مستحکم سی اے اے 1 ) کی ریٹنگ میں کیے گئے اقدام کے بعد سامنے آیا ہے۔

واپڈا کی سی اے اے 1 کارپوریٹ فیملی ریٹنگ (سی ایف آر) میں اس کی سی اے اے 1بیس لائن کریڈٹ اسسمنٹ (بی سی اے) اور موڈیز کا یہ اندازہ شامل ہے کہ ضرورت پڑنے پر حکومتِ پاکستان سے غیر معمولی معاونت ملنے کا قوی امکان ہے اور کمپنی کا حکومت پر نہایت زیادہ انحصار ہے۔ یہ تجزیہ موڈیز کے مشترکہ ڈیفالٹ تجزیے (جے ڈی اے) کے تحت کیا گیا ہے جو سرکاری شعبے سے تعلق رکھنے والے اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی نے نشاندہی کی کہ کمپنی کا کمزور مالی پروفائل ایک غیر متوقع ریگولیٹری فریم ورک اور بروقت اخراجات کی مناسب وصولی میں ناکامی کا نتیجہ ہے جس کے باعث ٹیرف کے فیصلوں میں تاخیر اور واجبات کی طویل ریکوری سائیکل پیدا ہوئی ہے۔

موڈیز نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 12 سے 18 ماہ کے دوران واپڈا کے فنڈز فرام آپریشنز (ایف ایف او) انتہائی کمزور رہیں گے اور مستقل بحالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریگولیٹر ٹیرف میں اضافے کی منظوری دیتا ہے یا نہیں، اور نیلم جہلم پاور منصوبے (این جے ایچ پی) کی بحالیِ کارکردگی کب ہوتی ہے۔ موڈیز نے کہا کہ واپڈا کے مالیاتی اشاریوں کا اس کا تجزیہ واپڈا کے پاور سیکشن اور نیلم جہلم کے مشترکہ مالیاتی اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ انہی وجوہات کی بنا پر واپڈا کی لیکویڈٹی دباؤ کا شکار رہے گی کیونکہ اس کے موجودہ قرضے بہت زیادہ ہیں اور سرمائے پر بھاری اخراجات جاری ہیں۔ کمپنی نے کچھ سرکاری قرضے طے شدہ شیڈول کے مطابق واپس نہیں کیے جس کی ایک وجہ اپنے سرکاری خریدار سے واجبات کی وصولی میں تاخیر ہے۔ موڈیز کو توقع ہے کہ یہ صورتحال برقرار رہے گی۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے (این جے ایچ پی) کی سرگرمیاں مئی 2024 سے معطل ہیں کیونکہ منصوبے کی ٹیل ریس ٹنل میں دباؤ کم ہوگیا ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ منصوبہ کب دوبارہ کام شروع کرے گا یا مرمت پر کتنا خرچ آئے گا۔

اس دوران، این جے ایچ پی (نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ) اپنے آپریٹنگ کیش ضروریات پوری کرنے، مرمت کے اخراجات برداشت کرنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے واجب الادا رقوم کی وصولی پر انحصار کرے گا۔ اس منصوبے کو اس سے قبل سرنگ میں بڑے شگاف دریافت ہونے کے باعث 13 ماہ کے لیے بند کیا گیا تھا اور ستمبر 2023 میں ہی دوبارہ کام شروع کیا تھا۔

موڈیز نے کہا کہ واپڈا کے لیے حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کے قوی امکان کی توقع اس حقیقت پر مبنی ہے کہ کمپنی مکمل طور پر پاکستانی حکومت کی ملکیت ہے اور اس کی براہ راست نگرانی میں کام کرتی ہے۔ یہ کمپنی کی اس اسٹریٹجک اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ (1) یہ پاکستان میں سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے ہائیڈرو پاور اثاثے تعمیر اور چلانے کا کام کرتی ہے، اور (2) ملک کے شدید پانی کے مسائل حل کرنے کے لیے آبی ذخائر تعمیر کرتی ہے۔

تاہم، یہ عوامل حکومت کی کمزور پالیسی پیش بینی اور شفافیت سے پیدا ہونے والے خطرات سے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کو درپیش مالی مشکلات، جو اس کی سی اے اے 1 ریٹنگ سے ظاہر ہوتی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واپڈا کو مدد فراہم کرنے کی حکومت کی صلاحیت محدود ہے۔

ریٹنگ پر مستحکم آؤٹ لک پاکستان کی خودمختار (سارون) ریٹنگ پر مستحکم آؤٹ لک کی عکاسی کرتا ہے، جو موڈی کی اس توقع پر مبنی ہے کہ واپڈا اور حکومت کے درمیان تعلقات کم از کم اگلے 12 سے 18 ماہ تک برقرار رہیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025