ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران، چین اور روس کے ساتھ مل کر یورپی ممالک کی جانب سے تہران کے خلاف پابندیوں کے فوری نفاذ (اسنیپ بیک) کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دھمکی دی ہے کہ اگر اگست کے آخر تک جوہری تنازع کا سفارتی حل نہ نکلا تو وہ ایران پر ہتھیاروں، جوہری سازوسامان اور بینکنگ پر عائد عالمی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں گے۔
یہ تینوں ممالک 2015 کے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (جے سی پی او اے) کے فریق تھے، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام میں پابندیوں کے عوض معاشی و تجارتی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔ معاہدہ اکتوبر میں ختم ہو رہا ہے اور اس میں اسنیپ بیک میکنزم شامل ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ اگر یہ کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران کے پاس جواب دینے کے اقدامات موجود ہیں۔ 2018 میں امریکا نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر کے سخت پابندیاں دوبارہ عائد کی تھیں، جبکہ رواں سال امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بھی کیے۔ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔