مسابقتی ایپلٹ ٹریبونل (سی اے ٹی) نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے جس میں ایسوسی ایشن کو گندم کے آٹے کی قیمت مقرر کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، ٹریبونل نے سی سی پی کی جانب سے 2019 میں عائد کردہ 7 کروڑ 50 لاکھ روپے کے جرمانے کو کم کر کے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دیا ہے۔

سی سی پی کے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق 2019 میں کمیشن نے نوٹ کیا تھا کہ فلور ملز ایسوسی ایشن نے اپنے ہر رکن کے لیے گندم پیسنے کا کوٹہ مقرر کیا تھا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

ایسوسی ایشن نے بعد ازاں اس فیصلے کو ایپلٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا۔

سی سی پی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ مسابقتی ایکٹ 2010 کی شق 4(1) اور 4(2)(a) کے تحت ایسی کوئی بھی باہمی مفاہمت یا فیصلہ، جو قیمتوں کے تعین کے لیے کیا جائے، خواہ وہ کاروباری اداروں کے درمیان ہو یا کسی ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پر، غیر قانونی ہے۔

سی سی پی نے مؤقف اختیار کیا کہ فلور ملز ایسوسی ایشن ( پی ایف ایم اے) کی جانب سے باقاعدگی سے اور منظم انداز میں قیمتوں سے متعلق ہدایات جاری کرنا، انفرادی فلور ملز کی کاروباری خودمختاری کو متاثر کرتا ہے، جو ایک ’افقی معاہدہ‘ (ہوریزنٹل ایگریمنٹ) کے زمرے میں آتا ہے اور اس کا مقصد مسابقت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد، ایپلٹ ٹریبونل نے سی سی پی کے مشاہدات کو درست قرار دیا تاہم جرمانے کی رقم کم کر کے 3 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی۔