غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں پیر کو ہفتوں بعد سب سے شدید بمباری کی گئی، چند گھنٹے بعد جب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا کہ وہ حماس کے خلاف نئے اور توسیعی حملے کو ”جلد مکمل“ کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ ایک فضائی حملے میں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف سمیت چھ صحافی مارے گئے، یہ اسرائیلی مہم کے دوران صحافیوں پر سب سے مہلک حملہ تھا جو 22 ماہ سے جاری ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں اور طیاروں نے غزہ شہر کے مشرقی مضافات صابرا، زیتون اور شجاعیہ پر شدید گولہ باری کی، جس سے کئی خاندان مغربی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ مقامی باشندوں نے کہا کہ یہ ہفتوں کی بدترین رات تھی، جس سے خدشات پیدا ہوئے کہ شہر میں بڑے زمینی آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے حماس کے راکٹ فائرنگ کے ایک لانچنگ سائٹ کو تباہ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے فوج کو غزہ شہر پر کنٹرول کے منصوبے تیز کرنے کی ہدایت دی اور اسے حماس کا دہشت گردی کا دارالحکومت قرار دیا۔

نئے منصوبوں پر عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی گئی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اسے بے مثال تباہی قرار دیا، جبکہ جرمنی نے غزہ میں استعمال ہونے والے فوجی سازوسامان کی اسرائیل کو برآمد روک دی۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور غذائی قلت سے مزید پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جس سے کل تعداد 222 ہو گئی، جن میں 101 بچے شامل ہیں۔

الجزیرہ نے انس الشریف کے حماس سے تعلقات کے اسرائیلی الزامات کو مسترد کر دیا۔ حماس کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 238 صحافی مارے جا چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے میں 1,200 اسرائیلی مارے گئے تھے، جبکہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے 61,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔