فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بظاہر معمول کی تقرری و تبادلہ پالیسی کے تحت کراچی سے دو افسران کا اسلام آباد تبادلہ کر دیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ان میں سے ایک افسر نے گاڑیوں کی درآمد میں بے نامی لین دین کے خلاف جامع کریک ڈاؤن شروع کیا تھا، جبکہ دوسرے افسر پاکستان کے ’’فیس لیس کسٹمز آڈٹ‘‘ کی جانچ میں مصروف تھے، جسے ایف بی آر اور متعلقہ کابینہ ارکان نے بدعنوانی سے پاک قرار دیا تھا۔
پہلے افسر نے بعد ازاں ایک ٹوئٹ میں کہا کہ جب میں نے گاڑیوں کی درآمد میں بے نامی لین دین اور بیگیج و گفٹ اسکیمز کے غلط استعمال کے خلاف کارروائی کی تو طاقتور لابیوں کو تکلیف ہوئی۔ میرا واحد قصور یہ تھا کہ میں نے قانون نافذ کیا اور قومی خزانے کا تحفظ کیا۔ نتیجتاً میرا تبادلہ کراچی سے اسلام آباد کر دیا گیا۔
دوسرے افسر کی آڈٹ رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ درآمد کنندگان مسلسل اس بات کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کی خریداری جائز ترسیلاتِ زر کے ذریعے بیرونِ ملک سے کی گئی تھی۔
ان دونوں افسران کی جانب سے طاقتور لابیوں پر لگائے گئے الزامات خاصے معتبر ہیں کیونکہ ملک میں اشرافیہ کا قبضہ تین سطحوں پر بدستور موجود ہے:
1 . ٹیکس ڈھانچہ اب بھی بالواسطہ ٹیکسوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتا ہے، جن کا بوجھ غریب طبقے پر امیروں کی نسبت کہیں زیادہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں غربت کی شرح 44.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔2. بجٹ میں اخراجات کی تقسیم ہمیشہ اشرافیہ کے حق میں رہتی ہے، جن کی تنخواہیں عوام کے ٹیکسوں سے ادا ہوتی ہیں اور جن کی سالانہ تنخواہوں/پنشن میں مہنگائی کی شرح سے کہیں زیادہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ طبقہ محض 7 فیصد لیبر فورس پر مشتمل ہے، جبکہ باقی 93 فیصد نے کووڈ-19 کے بعد سے کوئی تنخواہی اضافہ نہیں دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ 22 فیصد کی بلند بے روزگاری شرح مزید برطرفیوں کے خدشات پیدا کر رہی ہے۔3. پالیسیوں کو معمول کے مطابق اشرافیہ کے مفاد میں ڈھالا جاتا ہے، مثال کے طور پر چینی کی قیمت میں بار بار اضافہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ مل مالکان کی جانب سے پیش کردہ گوداموں میں موجود چینی کے ذخائر کے غلط اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے، جس سے فیصلہ ساز بخوبی واقف ہوتے ہیں۔
ان دونوں ایف بی آر افسران کا تبادلہ اسی قسم کے اشرافیاتی رویے کی عکاسی کرتا ہے، یعنی یہ یقینی بنانا کہ قانون کا اطلاق دوسروں پر ہو، ان پر نہیں۔
اگرچہ تبادلے اور تقرریاں سرکاری محکموں میں معمول کا حصہ ہیں اور ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تبادلے محض اتفاقیہ ہیں، لیکن ان کے وقت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ امید ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال، جو ٹیکس چوروں کو علانیہ وارننگ دے چکے ہیں کہ وہ سب سے واجب الادا ٹیکس وصول کریں گے، اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور غیر جانب دارانہ تحقیقات شروع کریں گے۔
اگر یہ تبادلے معمول کا حصہ نہیں ہیں تو راشد لنگڑیال کو چاہیے کہ اس فیصلے کو واپس لیں۔ لیکن اگر یہ واقعی معمول کے تبادلے ہیں تو بہتر ہو گا کہ وہ ان دونوں افسران کو کراچی میں کام جاری رکھنے کی اجازت دیں، تاکہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان کو یہ پیغام ملے کہ وہ اپنی واجب الادا رقوم سے بچنے کے لیے اب اثر و رسوخ استعمال نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو کہ ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت اور کابینہ ان افسران کے پیچھے کھڑی ہے جب وہ اشرافیہ کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
آخر میں، ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سرکاری محکمے ایک ایسا نظام اور طریقہ کار وضع کریں، جس کے ذریعے افسران اُن عناصر کی نشاندہی کر سکیں جو انہیں قانون توڑنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، تاکہ تبادلے کی صورت میں ان کے پاس ایسا ریکارڈ موجود ہو جو یہ ثابت کرے کہ انہوں نے اپنے اعلیٰ حکام کو پیشگی خبردار کیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025