ایشیائی بینک اور اپٹما کے درمیان ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے پر مشاورت
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فان کی سربراہی میں وفد نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے عہدیداروں سے لاہور میں ملاقات کی، جس میں ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی، عالمی برآمدی رجحانات اور پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے حجم و قدر میں اضافے کے امکانات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک وفد میں اسد علیم (ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر)، خیم عباسی (پروگرام آفیسر)، شہریار چودھری (سینئر انویسٹمنٹ آفیسر) اور محمد اسماعیل خان (ہیڈ میڈیا کمیونیکیشنز) شامل تھے۔ وفد کا اپٹما دفتر آمد پر چیئرمین کامران ارشد، چئیرمین نارتھ اسد شفیع، ہارون الٰہی شیخ، محمد علی، احسن شاہد اور سیکریٹری جنرل رضا باقر نے پرتپاک استقبال کیا۔
اجلاس میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی پر بھی روشنی ڈالی گئی جس کے چار کلیدی پہلو ہیں: نجی شعبے کو متحرک کرنا، عوامی شعبے کی بہتری، انسانی وسائل کی ترقی، اور رسائی و رابطے کو وسعت دینا۔ ایما فان نے پائیدار ترقی، محنت کشوں کے حقوق اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کا جائزہ پیش کرتے ہوئے درپیش چیلنجز اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ تعاون کے فروغ کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال میں 50 ارب ڈالر کی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے 1000 گارمنٹس یونٹس پر مشتمل خصوصی ”اپیرل پارکس“ کے قیام کی تجویز ہے، جس کے لیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے تعاون کی درخواست کی گئی۔
اسد شفیع نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کے بعد پاکستانی صنعت نے عالمی تقاضوں کے مطابق لیبر رائٹس، ماحولیات اور گورننس کے شعبے میں شاندار پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے قومی کمپلائنس سینٹر اور ٹیکسٹائل ڈی این اے لیب کے قیام کو یورپی یونین کی نئی رجسٹریشن ضروریات سے ہم آہنگ قرار دیا۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے اپٹما کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کی یقین دہانی کروائی تاکہ برآمدی بنیاد کو وسعت دے کر پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025