وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خام کپاس، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ کو ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے دائرہ کار سے خارج کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

تاہم، لوہے اور اسٹیل کے اسکریپ کو بدستور اسکیم کے دائرہ کار میں برقرار رکھا گیا ہے۔

ایف بی آر نے ایس آر او 1435(I)/2025 کے ذریعے کسٹمز رولز میں ترمیم کی ہے جب کہ اس سے قبل مجوزہ ایس آر او 1359(I)/2025، 29 جولائی 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔ اب ترمیم شدہ ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کو حتمی نوٹیفکیشن کے ذریعے نافذ کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، مذکورہ تین اشیاء — خام کپاس، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ — اب زیرو ریٹنگ سہولت کے تحت دستیاب نہیں ہوں گی، اور ان پر سیلز ٹیکس کا اطلاق معمول کے ریٹ کے تحت ہوگا۔

ترمیم شدہ اسکیم کے تحت کمپریسر اسکریپ اور موٹر اسکریپ کی درآمد صرف تانبے (کاپر) کے حصول کی غرض سے کی جا سکے گی۔ پاکستان کسٹمز ٹیرف کی متعلقہ ہیڈنگز میں شامل خام کپاس، کاٹن یارن اور گرے کلاتھ کو EFS اسکیم سے خارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم، وہ درآمدی کھیپیں جن کے بل آف لیڈنگ اس نوٹیفکیشن کے اجرا کے 10 دن کے اندر جاری ہوئے ہوں انہیں اسکیم کے تحت اجازت دی جائے گی۔

ایف بی آر کے مطابق، ترمیم شدہ اسکیم میں ”انشورنس گارنٹی“ سے مراد وہ ضمانت ہے جو بورڈ سے منظور شدہ کسی انشورنس کمپنی کی جانب سے جاری کی جائے، جس کی کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی (پاکرا) کے مطابق AA++ ہو، اور جو بورڈ کی مقرر کردہ شرائط اور فارمیٹ پر مبنی ہو۔

جب تک بورڈ انشورنس گارنٹی کا باضابطہ فارمیٹ نوٹیفائی نہیں کرتا، تب تک جہاں لازمی ہو، ای ایف ایس کے صارفین کو بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگی۔

مزید یہ کہ ای ایف ایس استعمال کنندگان کو اجازت ہوگی کہ وہ اپنی کل اتھارائزیشن کے 10 فیصد تک نیا خام مال ریگولیٹری کلیکٹر یا ان پٹ آؤٹ پٹ کوایفیشنٹ آرگنائزیشن کی پیشگی منظوری کے بغیر حاصل کر سکیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025