فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ (ایف سی اے) نظام کے تحت ایک 2023 ماڈل ٹویوٹا لینڈ کروزر کی درآمدی قیمت صرف 17,635 روپے ظاہر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے لگژری گاڑیوں کی درآمد میں بڑے پیمانے پر انڈرانوائسنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

یہ انکشاف ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پوسٹ کلیرنس آڈٹ (پی سی اے) کی جانب سے دسمبر 2024 سے مارچ 2025 کے دوران ایف سی اے نظام کے تجزیے پر مبنی ایک آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں ملک کی تاریخ کی مبینہ طور پر سب سے بڑی تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ اسکیم کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1,335 درآمدی اعلانات (گڈز ڈیکلریشن) کی جانچ کی گئی جن میں گاڑیوں کی قیمت اور ڈیوٹی میں 10 لاکھ روپے سے زائد کا فرق سامنے آیا۔ ان تمام کیسز میں درآمد کنندگان نے مجموعی طور پر صرف 670 ملین روپے کی درآمدی قیمت ظاہر کی، جبکہ کسٹمز حکام نے ان کی اصل مالیت 7.254 ارب روپے مقرر کی۔ اس کے نتیجے میں صرف 1.29 ارب روپے کی ابتدائی ڈیوٹی وصول کی گئی، حالانکہ اصل واجب الادا ٹیکس 18.78 ارب روپے بنتا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہر کیس میں درآمد کنندگان گاڑیوں کی خریداری کے لیے غیر ملکی زر مبادلہ کی قانونی ترسیلات کا کوئی ثبوت فراہم نہ کر سکے، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل ادائیگیاں غیر قانونی حوالہ یا ہنڈی چینلز کے ذریعے کی گئیں۔

ایک کیس میں 3,444 سی سی انجن کی حامل لینڈ کروزر جاپان سے درآمد کی گئی، جس کی قیمت درآمدی دستاویزات میں صرف 17,635 روپے ظاہر کی گئی، جبکہ اصل قیمت 1 کروڑ 4 ہزار 868 روپے اور واجب الادا ٹیکسز و ڈیوٹیز 4 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد تھے، یعنی 99.8 فیصد انڈرانوائسنگ کی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ درآمد کنندگان نے جان بوجھ کر گاڑیوں کی قیمتیں کم ظاہر کر کے نہ صرف ٹیکس چوری کی بلکہ ان گاڑیوں کی آمدن میں کم قیمت ظاہر کر کے انکم ٹیکس گوشواروں میں بھی غلط بیانی کی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ ایک منظم منی لانڈرنگ اسکیم ہے جو نہ صرف مالیاتی نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کی شرائط کی خلاف ورزی بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ کو متعلقہ حکام کو بھیج دیا گیا ہے اور ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ سے فوری اور مشترکہ کارروائی متوقع ہے تاکہ نظامی خامیوں کو دور کیا جا سکے اور مستقبل میں اس قسم کی مالیاتی بدعنوانی کو روکا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025