جاپان کے وزیراعظم شیگرو ایشیبا نے پیر کے روز کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت آٹو ٹیرف میں کمی کے نفاذ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔
پارلیمنٹ اجلاس میں اپوزیشن نے اس پر تنقید کی کہ معاہدے کے وقت امریکہ کے ساتھ کوئی باضابطہ دستاویز پر دستخط نہیں کیے گئے۔ ایشیبا نے وضاحت کی کہ اگر تحریری معاہدہ کرتے تو ٹیرف میں کمی میں تاخیر ہو سکتی تھی، جو سب سے بڑا خدشہ تھا۔
انہوں نے ٹرمپ کو غیر روایتی مذاکراتی فریق قرار دیا اور کہا کہ وہ کبھی بھی قواعد تبدیل کر سکتے ہیں۔
ایشیبا نے کہا کہ معاہدے پر عملدرآمد، اس پر اتفاق رائے سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے، اور وہ بطور وزیراعظم اس عمل کو مکمل ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
جاپانی معاہدے کے تحت امریکہ نے گاڑیوں سمیت کئی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم گاڑیوں پر ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا وقت واضح نہیں۔