پاکستان

وزارت خزانہ کا حکومت اور شہریوں کے درمیان مالی لین دین ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے حکومت سے شہری (جی ٹو پی) اور شہری سے حکومت (پی ٹو جی) کے...
شائع August 4, 2025 اپ ڈیٹ August 4, 2025 09:24am

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ خزانہ نے حکومت سے شہری (جی ٹو پی) اور شہری سے حکومت (پی ٹو جی) کے درمیان مالی لین دین کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ایک کیش لیس ادائیگی نظام تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔

اس حوالے سے سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کی زیر صدارت ایک ذیلی کمیٹی نے وزارت خارجہ، وزارت دفاع، وزارت دفاعی پیداوار سمیت تمام متعلقہ وزارتوں سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، سیکریٹریز خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی مشاورت میں شامل ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ نے تمام وزارتوں کو آگاہ کیا ہے کہ وزیراعظم نے 22 جون 2025 کو ’’کیش لیس پاکستان‘‘ سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔

ایک ذیلی کمیٹی، جس کی قیادت وزارت خزانہ کر رہی ہے، حکومت کی جانب سے شہریوں کو ادائیگی (جی ٹو پی) اور شہریوں سے حکومت کو ادائیگی (پی ٹو جی) کو ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنے کے لیے منصوبہ بنا رہی ہے، تاکہ مالی لین دین میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیراعظم کے مشیر کے مطابق، ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام سرکاری اداروں، خودمختار اتھارٹیز اور تنظیموں کی مکمل فہرست حاصل کی جائے جو جی ٹو پی اور پی ٹو جی لین دین میں شامل ہیں، جن میں تنخواہیں، پنشن، وینڈر ادائیگیاں، سبسڈی، فلاحی ادائیگیاں اور ٹیکس و نان ٹیکس محصولات شامل ہیں۔

اس مقصد کے لیے تمام وزارتوں سے درج ذیل معلومات سی ای او کارانداز / سیکرٹری اسٹیئرنگ کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:(1) وزارت کا نام، (2) ادارے یا اتھارٹی کا نام، (3) ادارے کا سربراہ، (4) فوکل پرسن کا نام، ای میل، رابطہ نمبر، (5) لین دین کی نوعیت (تنخواہیں/ پنشن/ ٹیکس/ وینڈر)، (6) لین دین کی مدت (روزانہ/ سالانہ)، (7) موجودہ ادائیگی کا طریقہ (کیش، ویب سائٹ وغیرہ)، (8) سالانہ لین دین کا حجم، (9) مستفید ہونے والوں کی تعداد (ماہانہ/ ششماہی)، (10) ڈیجیٹلائزیشن کی موجودہ کوششیں اور درپیش چیلنجز۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے لیے ذیلی کمیٹی نے درج ذیل اہداف منظور کیے ہیں:(1) کیو آر کوڈز سمیت فعال ڈیجیٹل کامرس پوائنٹس کو 0.5 ملین سے بڑھا کر 2 ملین کیا جائے،(2) ہر تاجر کم از کم ایک ماہ میں ایک ڈیجیٹل لین دین کرے،(3) ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 95 ملین سے بڑھا کر 120 ملین کی جائے،(4) ڈیجیٹل لین دین کی تعداد 7.5 ارب سے بڑھا کر 15 ارب کی جائے،(5) ترسیلات زر 100 فیصد بینک اکاؤنٹس یا والٹس میں منتقل ہوں، کیش ادائیگی بند کی جائے (موجودہ سطح 80 فیصد ہے)۔

سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ کیش لیس نظام کو فروغ دینے کے لیے سبسڈی کی سالانہ حد کو بڑھا کر 3.5 ارب روپے کیا جائے، جس میں بینکوں کو تاجروں کو راست پر آن بورڈ کرنے کے لیے 0.5 فیصد مراعات دی جائیں گی۔ بینک تاجر سے زیادہ سے زیادہ 0.25 فیصد ایم ڈی آر وصول کر سکیں گے، اس سے زائد لاگت سروس فراہم کنندگان برداشت کریں گے۔

حکومتی ادائیگیوں سے متعلق ذیلی کمیٹی، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت سے اپنے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کے اوقاتِ کار کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

سرکاری اداروں (ایس او ایز) اور پی ٹو جی اہداف سے متعلق منصوبے جمع کروانے کے لیے نظرثانی شدہ اوقات، جو کم از کم ایک چوتھائی تک کم ہوں گے، اگلی میٹنگ میں شیئر کیے جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی گئی ہے کہ راست پیمنٹ پاکستان کے بورڈ میں شامل نجی شعبے کے ارکان ڈیجیٹل ادائیگیوں کے میدان میں تجربہ کار اور شہرت یافتہ ماہرین ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025