حماس نے ہفتے کے روز واضح کیا ہے کہ جب تک ایک آزاد اور مکمل خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی، جو اسرائیل کے اس اہم مطالبے کے لیے ایک تازہ اور دوٹوک ردعمل ہے جسے وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کی شرط قرار دیتا ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی اور مغویوں کی رہائی کے لیے بالواسطہ مذاکرات گزشتہ ہفتے کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔

قطر اور مصر، جو مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، نے منگل کے روز فرانس اور سعودی عرب کی جانب سے پیش کیے گئے ایک مشترکہ اعلامیے کی حمایت کی جس میں دو ریاستی حل کی جانب اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حماس کو اپنے ہتھیار مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے ہوں گے۔

تاہم، اپنے بیان میں حماس نے، جو 2007 سے غزہ کی حکمرانی سنبھالے ہوئے ہے اور موجودہ جنگ میں شدید فوجی دباؤ کا سامنا کر چکی ہے، دوٹوک اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مسلح مزاحمت کے حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی، جب تک کہ ”یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد، مکمل خودمختار فلسطینی ریاست“ قائم نہ ہو جائے۔

اسرائیل نے حماس کو غیر مسلح کرنا جنگ بندی معاہدے کی مرکزی شرط قرار دے رکھا ہے، لیکن حماس اس موقف کو کئی بار سراسر مسترد کر چکی ہے۔

گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کسی بھی ممکنہ آزاد فلسطینی ریاست کو اسرائیل کے لیے ایک ”تباہ کن پلیٹ فارم“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بنیاد پر فلسطینی علاقوں پر سیکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہنا چاہیے۔

انہوں نے برطانیہ، کینیڈا سمیت اُن ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور محاصرے کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اعلانات کیے۔ نتن یاہو نے اس اقدام کو حماس کے طرز عمل پر ”انعام“ قرار دیا ہے۔

اسرائیل کی غزہ پر فوجی یلغار نے علاقے کو کھنڈر بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ایک شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

ادھر اسرائیل اور حماس نے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے، جن میں اب بھی اہم نکات ، خصوصاً اسرائیلی فوجی انخلا کی حد جیسے امور، پر اختلافات برقرار ہیں۔