سندھ محتسب کا حکم، سی ای او کے الیکٹرک نے الزامات مسترد کر دیے
کے-الیکٹرک کے سی ای او، مونس علوی نے سندھ کے محتسب کی 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے، جسے ان کے وکیل نے ”بغیر دلیل کے فیصلہ“ قرار دیا۔
مونس علوی – جو کے الیکٹرک کے طویل ترین مدت کے سی ای او ہیں – نے ایک سلسلہ وار پوسٹس میں ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ وہ یہ معاملہ قانونی طور پر لڑیں گے۔
انہوں نے لکھا کہ”حالیہ فیصلہ میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ میں قانونی عمل اور ان اداروں کا احترام کرتا ہوں جو اسے برقرار رکھتے ہیں، لیکن میں دیانت داری سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس فیصلے کی تفصیلات اس حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں جو میں نے خود محسوس کی۔“
”میں اپنے قانونی مشیروں کے ساتھ اس فیصلے کا جائزہ لے رہا ہوں اور اپیل کے اپنے قانونی حق کو استعمال کروں گا… میں اس بات پر قائم ہوں کہ سچائی کو مکمل طور پر اور قانونی دائرہ کار میں سامنے لایا جائے۔“
مونس علوی کی جانب سے سینیئر وکلا، بیرسٹر عابد ایس زبیری اور بیرسٹر ایان میمن نے اپیل کا ارادہ ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہہم معزز عدالت اور اس کے تمام فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، تاہم سنگین قانونی اور طریقہ کار کی خامیوں کے پیش نظر ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ انصاف ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کارکردگی سے متعلق فیڈ بیک کو ہراسانی کے طور پر پیش کرنا، بغیر کسی دلیل کے سخت ترین سزا سنانا، اور بے بنیاد الزامات کو بنیاد بنانا تشویش ناک ہے۔
وکلاء کا مزید کہنا تھامونس علوی صاحب نے شکایت کنندہ کی کارکردگی سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کیں اور اس کے برخاست کیے جانے کے بعد کی گئی شکایات کے حقائق بھی بیان کیے، جنہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔فیصلے کا ایک بڑا حصہ بے بنیاد الزامات پر مشتمل ہے، جن کی کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہآج کا محتسب کا فیصلہ کے الیکٹرک فیملی، ہمارے اسٹیک ہولڈرز اور خیرخواہوں کے لیے ایک کٹھن لمحہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہکے الیکٹرک سچ، قانونی عمل، اور ایک پیشہ ورانہ و باعزت ماحول کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتی ہے اور ان پر قائم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025