مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے 223 مقدمات کے فیصلے کرتے ہوئے قانونی مقدمات کے التوا میں 40 فیصد سے زائد کمی اور جرمانوں کی وصولی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

کمیشن کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگست 2023 میں نئی انتظامیہ کے عہدہ سنبھالنے کے وقت مختلف عدالتوں میں سی سی پی کے 567 مقدمات زیر التوا تھے۔

بیان کے مطابق مسابقتی اپیلیٹ ٹربیونل نے 210 میں سے 121 مقدمات کا فیصلہ کیا جس سے زیر التوا کیسز کی تعداد میں 58 فیصد کمی واقع ہوئی۔

سپریم کورٹ نے 11 مقدمات کا فیصلہ سنایا جبکہ سی سی پی کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے والے 171 مقدمات کو ایک ہی سماعت کے لیے یکجا کر دیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 39 مقدمات نمٹائے جس سے زیر التوا کیسز میں 78 فیصد کمی آئی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے 40 مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے زیر التوا مقدمات میں 61 فیصد کمی کی۔

اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ نے 13 مقدمات کا فیصلہ کیا جس سے زیر التوا کیسز میں 43 فیصد کمی واقع ہوئی۔

سی سی پی کے مطابق ان فیصلوں کے نتیجے میں کمیشن کو عائد کردہ جرمانوں کی وصولی میں نمایاں پیش رفت ہوئی اور گزشتہ ایک سال کے دوران 36 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جو کہ کمیشن کے 2007 میں قیام سے اب تک جمع کی گئی کل رقم 20 کروڑ 10 لاکھ روپے سے کہیں زیادہ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈالڈا فوڈز بمقابلہ مسابقتی کمیشن کیس میں دیا گیا فیصلہ کمیشن کی نفاذی صلاحیت کو مزید تقویت دینے کا باعث بنا۔

اسی طرح پولٹری سیکٹر میں مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے قیمتوں کے تعین میں گٹھ جوڑ کی تحقیقات جاری رکھنے کے لیے سی سی پی کے اختیارات کو برقرار رکھا۔