امریکی انجینئرنگ اور تعمیراتی کمپنی فلوئر کارپوریشن کو پاکستان کے صوبے بلوچستان میں واقع ریکو ڈِک منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے بیرک مائننگ کارپوریشن کی جانب سے حتمی اجازت مل گئی ہے۔

ٹیکساس میں قائم اس کمپنی کو اپریل 2025 میں بیرک کی جانب سے مرکزی انجینئرنگ، خریداری اور تعمیراتی انتظام (ای پی سی ایم) شراکت دار کے طور پر منتخب کیا گیا تھا اور فلوئر نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے دوسری سہ ماہی میں معاہدے میں شامل اپنے حصے کو تسلیم کر لیا ہے، اگرچہ معاہدے کی مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

فلوئر کی مائننگ اینڈ میٹلز ڈویژن کے صدر ہریش جمولہ نے کہا ہے کہ فلوئر اور بیرک بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کو محفوظ، ذمہ دار اور مؤثر انداز میں مکمل کرنے کے عزم میں یکساں ہیں۔ ریکو ڈِک منصوبہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرے گا اور بلوچستان کے صوبے پر اس کا مثبت اور انقلابی اثر متوقع ہے۔ یہ منصوبہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا اور ترقیاتی پروگراموں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرے گا۔“

بیرک کے صدر اور سی ای او مارک برسٹو نے کہا ہے کہ فلوئر کا ہمارا ای پی سی ایم شراکت دار بننا اس منصوبے کی تکمیل میں ہماری تکنیکی صلاحیت، آپریشنل نظم و ضبط اور سماجی و ماحولیاتی ذمہ داری کو مزید مضبوط بناتا ہے، جو دونوں کمپنیوں کا خاصہ ہے۔ ہم فلوئر کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں تاکہ ریکو ڈِک منصوبہ مقامی و بین الاقوامی شراکت داروں اور پاکستان و بلوچستان کے عوام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے دیرپا فوائد فراہم کرے۔

بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ریکو ڈِک کان میں 50 فیصد حصص ہیں، جبکہ باقی 50 فیصد پاکستان اور صوبہ بلوچستان کی حکومتوں کی ملکیت ہے۔

یہ کانیں دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبہ سونے کے ذخائر میں شمار ہوتی ہیں اور ان کی ترقی سے پاکستان کی معیشت پر گہرا اور مثبت اثر متوقع ہے۔

فلوئر کے مطابق ریکو ڈِک ایک نسلوں پر محیط منصوبہ ہے، جس کی متوقع عمر 40 سال سے زائد ہوگی۔ یہ منصوبہ ایک اوپن پٹ (کھلی کان کنی) طرز پر ہوگا، جہاں ٹرک اور شاول مشینوں کے ذریعے کان کنی کی جائے گی اور جدید پروسیسنگ سہولیات کی مدد سے اعلیٰ معیار کا تانبہ سونے کا کنسنٹریٹ تیار کیا جائے گا۔

منصوبے میں کئی اوپن پٹ کانیں، متعلقہ بنیادی ڈھانچہ، کنسنٹریٹ پروسیسنگ کی سہولیات اور ایک نقل و حمل کا نظام شامل ہوگا، جس کے ذریعے اشیاء، سازوسامان اور کنسنٹریٹ کو کان سے بندرگاہ تک منتقل کیا جائے گا۔

منصوبے کی تعمیر اس سال کے آخر میں شروع ہوگی اور اسے دو مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلی پیداوار 2028 میں متوقع ہے۔ مکمل طور پر فعال ہونے پر، یہ منصوبہ سالانہ 90 ملین ٹن مواد کی پراسیسنگ کی صلاحیت رکھے گا۔