شمالی کوریا نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ماضی کی سربراہی ملاقاتوں کے بعد حالات بدل چکے ہیں اور آئندہ کوئی بھی بات چیت اس کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ نہیں کر سکے گی۔ یہ بیان شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جاری کیا ہے۔
شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کی بااثر بہن کِم یو جونگ، جو اپنے بھائی کی نمائندہ سمجھی جاتی ہیں، نے کہا کہ وہ تسلیم کرتی ہیں کہ کِم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ذاتی تعلقات ”برے نہیں“ ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر واشنگٹن ذاتی تعلقات کو شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو یہ کوشش محض ”مذاق“ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ بدلی ہوئی حقیقت کو تسلیم کرنے میں ناکام رہتا ہے اور ماضی کی ناکام پالیسیوں پر قائم رہتا ہے، تو ڈی پی آر کے اور امریکہ کی ملاقات محض امریکی امید ہی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شمالی کوریا کی ایٹمی طاقت کے طور پر پوزیشن اور جغرافیائی و سیاسی حالات ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران تین سربراہی ملاقاتوں کے بعد ڈرامائی طور پر بدل چکے ہیں۔
کے سی این اے کی ایک اور رپورٹ میں شمالی کوریا اور روس کے تعلقات میں بہتری کو اجاگر کیا گیا، جس کے مطابق پیانگ یانگ اور ماسکو کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مسافر پرواز بحال ہو گئی ہے۔ یہ پرواز دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دوروں اور رابطوں کے تناظر میں بحال ہوئی۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے یوکرین جنگ کے لیے روس کو فوجی اور اسلحہ فراہم کیا ہے، جبکہ ماسکو پر ٹیکنالوجی کے بدلے شمالی کوریا کی حمایت کا الزام ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب بھی ایک غیرایٹمی شمالی کوریا کے ہدف کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے کِم سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔