سندھ اسمبلی میں پیر کے روز نیپرا کے حالیہ فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا، جس کے تحت کے-الیکٹرک کو کراچی کے رہائشیوں سے بجلی کے بلوں میں 50 ارب روپے وصول کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فیصلے پر ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ چند افراد کی بجلی چوری کی سزا پورے شہر کو دینے کے مترادف ہے۔
یہ معاملہ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی محمد عامر صدیقی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے ذریعے اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 18 جولائی کو نیپرا نے فیصلہ دیا کہ کے-الیکٹرک عوام سے 50 ارب روپے وصول کرے گی، جو سراسر ناانصافی ہے۔ نیپرا کے پاس پورے علاقے کو کسی ایک فرد کی غلطی پر سزا دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک کی نااہلی، بجلی چوری نہ روکنے اور واجبات کی وصولی میں ناکامی کا بوجھ اب ایماندار صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے وزیر شرجیل انعام میمن نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہی مسئلہ حیسکو اور سیپکو کے ساتھ بھی موجود ہے۔یہ کمپنیاں اجتماعی طور پر عوام کو سزا دیتی ہیں جو غیر آئینی ہے۔ دیہی علاقوں میں ایک میٹر پورے گاؤں کو سپلائی دیتا ہے اور ایک کی غلطی کی سزا سب کو دی جاتی ہے۔
ضیاء الحسن لنجار نے ایوان کو بتایا کہ اس مسئلے پر تفصیلی بحث منگل کو ہوگی۔ قائم مقام اسپیکر انتھونی نوید نے رولنگ دی کہ قرارداد پر بحث کل کی جائے گی اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
اس سے قبل اجلاس میں سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس (ترمیمی) بل منظور کیا گیا۔ ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ 2024 میں ایک نیا اینٹی نارکوٹکس ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے اور ہر ضلع میں اب نامزد نارکوٹکس جج تعینات ہیں۔ اس ترمیم سے پولیس کو انسداد منشیات مقدمات پر کارروائی کے اختیارات ملیں گے اور آزاد عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
اجلاس میں ایم کیو ایم کے عامر صدیقی کی کراچی تا بحریہ ٹاؤن اضافی ٹول ٹیکس سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس مسترد کر دیا گیا۔ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ رکن اسمبلی اس معاملے پر قرارداد لائیں تاکہ اسے وفاقی حکومت کو بھیجا جا سکے۔
سوال و جواب کے سیشن میں پارلیمانی سیکریٹری سعدیہ جاوید نے ترقیاتی منصوبوں پر ایوان کو آگاہ کیا جبکہ ماڈل کالونی میں بڑھتے جرائم پر توجہ دلاؤ نوٹس پر ضیاء الحسن لنجار نے بتایا کہ کمیونٹی اور کاروباری رہنماؤں سے مل کر صورت حال بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور علاقے میں ماڈل پولیس اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے راشد خان کی جانب سے گورنمنٹ کالج کلی موری، حیدرآباد میں کلاسز بند ہونے سے متعلق نوٹس پر وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے وضاحت دی کہ یہ کالج بند نہیں کیا جا رہا بلکہ یونیورسٹی کے انتظام میں کام جاری رکھے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025