پاکستان

چینی کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے کیلئے حکومت کا شوگر ملز کی سخت نگرانی کا فیصلہ

  • یہ اقدام حال ہی میں طے شدہ قیمتوں کی حد کی خلاف ورزیوں اور سپلائی میں تعطل کی رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے
شائع July 29, 2025 اپ ڈیٹ July 29, 2025 08:22am

چینی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور مارکیٹ میں مستقل فراہمی یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے پیر کے روز شوگر ملوں کے ذخائر کی سخت نگرانی کا حکم دیا ہے۔ یہ اقدام حال ہی میں طے شدہ قیمتوں کی حد کی خلاف ورزیوں اور سپلائی میں تعطل کی رپورٹس کے بعد کیا گیا ہے۔

نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے وفاقی وزیر کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ کئی شوگر ملیں حکومت اور پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کے درمیان اس ماہ کے اوائل میں طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہیں۔

14 جولائی کو طے پانے والے معاہدے کے تحت ایکس مل چینی کی قیمت 165 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی تھی جو 15 جولائی سے 15 اگست تک مؤثر رہے گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ یقین دہانیوں کے باوجود بعض ملیں بروقت چینی کے ذخائر جاری نہیں کر رہیں اور مارکیٹ میں مسلسل فراہمی یقینی بنانے میں ناکام ہیں۔

اس پر وفاقی وزیر نے متعلقہ محکمے کو ہدایت دی کہ تمام شوگر ملوں میں اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ ذخائر کی سطح کی کڑی نگرانی کی جا سکے اور طے شدہ فریم ورک کے مطابق بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت قیمتوں کے استحکام اور مارکیٹ میں چینی کی دستیابی کے لیے پرعزم ہے۔ معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزارت نے شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے مؤثر ذخیرہ جاتی نظم و نسق نافذ کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران چیئرمین پی ایس ایم اے چوہدری ذکا اشرف نے شوگر ملز کو درپیش عملی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ معاہدے پر عمل کرنے والی ملوں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔

اس کے جواب میں وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ حقیقی شکایات کو فوری طور پر دور کیا جائے گا اور مسائل کے حل کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ایک شکایات ازالہ کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی۔ بہتر رابطے کے لیے حکومت نے حکام اور شوگر ملز کے نمائندوں کے درمیان فوری ہم آہنگی کے لیے ایک مخصوص واٹس ایپ گروپ بنانے کا اعلان بھی کیا۔

اجلاس میں پی ایس ایم اے کے نمائندوں، وفاقی و صوبائی حکام اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025