حسیب وقاص شوگر ملز لمیٹڈ نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ حصص کی بائی بیک (خریداری) کا ارادہ ترک کر رہی ہے اور حصص کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس سلسلے میں کسی مزید سرگرمی کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔

ملز نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو دیے گئے نوٹس میں بتایا کہ ڈائریکٹرز کے بورڈ کا اجلاس 25 جولائی کو منعقد ہوا۔

نوٹس میں کہا گیاکہ بورڈ کو آگاہ کیا گیا کہ پی ایس ایکس کو اطلاع دینے کے بعد سٹے بازوں نے اس خبر کا فائدہ اٹھایا اور حصص کی قیمت کو مصنوعی طور پر 200 فیصد سے زیادہ بڑھا دیا۔ جب 26 جون 2025 کو اطلاع نامہ بھیجا گیا تو فی حصص قیمت تقریباً 10 روپے تھی اور گزشتہ 3 سالوں کا اوسط وزن شدہ ریٹ بھی تقریباً 10 روپے فی حصص تھا۔

کمپنی نے بتایا کہ حصص کی قیمت میں یہ اضافہ مکمل طور پر قیاس آرائی پر مبنی ہے کیونکہ کمپنی فی الحال آپریشنز میں نہیں ہے اور کسی قسم کی واپسی کا کوئی امکان نہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ حصص کی قیمتوں میں یہ اچانک اضافہ صرف سٹے بازوں کو فائدہ دینے کے لیے کیا گیا تاکہ وہ اپنے حصص مصنوعی طور پر بڑھائی گئی قیمتوں پر کمپنی کو بیچ سکیں۔

مزید کہا گیا کہ کمپنی سیکریٹری نے بورڈ کو بتایا کہ بائی بیک کے اعلان کے بعد کمپنی کے کسی اسپانسر یا افسر نے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حصص کی خرید و فروخت میں حصہ نہیں لیا تاکہ اس لین دین کی شفافیت برقرار رہے اور کسی کو قیاس آرائی سے فائدہ نہ ہو۔

بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس معاملے پر تفصیل سے غور کیا اور پی ایس ایکس کو اطلاع دینے کے بعد مارکیٹ میں پیدا ہونے والی قیاس آرائی کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی۔ بورڈ کی متفقہ رائے کے مطابق موجودہ حالات میں حصص کی بائی بیک نہ کرنے اور اس سلسلے میں کسی مزید سرگرمی کو فی الحال روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔