وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ہفتے کے روز ورکرز ریمیٹنسز انسنٹیو اسکیم ( ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کی اسکیم) جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔ یہ ہدایات وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں دی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کچھ ہفتے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نائب گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے مبینہ طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے ترسیلات زر پر دی جانے والی مراعات ختم کیں تو مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ 38 ارب ڈالر کی ترسیلات کے باوجود، بینکاری ذرائع سے رقوم کی آمد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ہماری طاقت اور ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی محنت کی کمائی سے بھیجی گئی ترسیلات زر پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، اور میں خود سمیت پوری قوم ان کی اس قربانی اور خدمت کو دل سے سراہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترسیلات نہ صرف بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا باعث بھی بنیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کر رہے ہیں، اور اس نظام کو زیادہ موثر، فعال اور صارف دوست بنایا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان کو 38.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جو ملکی تاریخ کی سب سے بلند ترین سطح ہے۔
یہ ترسیلات گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 27 فیصد زائد رہیں، جب 30.25 ارب ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں۔
ترسیلاتِ زر نہ صرف پاکستان کے بیرونی کھاتے (ایکسٹرنل اکاؤنٹ) کو سہارا دیتی ہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں میں تحریک پیدا کرتی ہیں اور ایسے خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کرتی ہیں جو ترسیلات پر انحصار کرتے ہیں۔