وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، جو کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ہیں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں تمام ممکنہ قانونی اور سفارتی معاونت فراہم کرتی رہے گی۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں کسی طور پر بھی غفلت کی مرتکب نہیں ہورہی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرِاعظم اور وفاقی کابینہ کو توہینِ عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ یہ نوٹسز ڈاکٹر فوزیہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیے گئے تھے جس میں انہوں نے امریکہ میں قید اپنی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی، صحت کی صورتحال اور رہائی سے متعلق اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے 21 جولائی کو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست کی سماعت کے دوران وزیرِ اعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان کو نوٹس جاری کیے، کیونکہ حکومت ڈاکٹر عافیہ کیس میں عدالت میں مطلوبہ رپورٹ جمع کرانے میں ناکام رہی تھی۔
جسٹس اعجاز نے ڈاکٹر عافیہ کیس میں ایمیکس بریف پر دستخط سے حکومت کے انکار کے حوالے سے مطلوبہ رپورٹ پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حکومت اس سے قبل بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے میں سفارتی اور قانونی معاونت فراہم کرچکی ہے۔
مزید یہ کہ وزیرِ اعظم نے نہ صرف اُس وقت کے امریکی صدر جوبائیڈن کو اس معاملے پر خط لکھا بلکہ وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی تاکہ اس معاملے میں مزید پیش رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ کمیٹی ڈاکٹر فوزیہ سے رابطے میں رہے گی اور اس معاملے میں درکار ضروری معاونت فراہم کرنے کے لیے کام کرے گی۔