وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی جانب سے عدالتی مقدمات میں کمی اور ریگولیٹری اصلاحات کے باعث نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو سے درخواست کی کہ وہ چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو کو مدعو کریں تاکہ کمیشن کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی پی کی نئی قیادت نے گزشتہ دو سال میں عدالتوں میں مؤثر پیروی کرتے ہوئے زیر التواء مقدمات کی تعداد 577 سے کم کر کے تقریباً 300 تک پہنچا دی ہے۔

وزیر خزانہ نے سینیٹر محسن عزیز کی تحریک کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ پر مبنی معیشت میں شفاف اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک ناگزیر ہے تاکہ مقابلے کی فضا اور احتساب کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے سی سی پی کی حالیہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے حکومت کی حمایت کا مستحق قرار دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن نے گزشتہ سال 11 اہم فیصلے دیے جن کے تحت 1 ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے جن میں سے تقریباً 12 کروڑ روپے وصول بھی ہو چکے ہیں۔ انکوائری اور شوکاز نوٹس کے اجرا کا عمل تیز ہوا ہے جبکہ سماعتوں کا نظام مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران کارٹیلز ڈپارٹمنٹ نے 20 جبکہ دفتر برائے فیئر ٹریڈ نے 13 تحقیقات مکمل کیں۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور باقاعدہ سماعتیں شروع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سی سی پی میں ایک جدید مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ قائم کیا گیا ہے جو مارکیٹ میں بگاڑ، قیمتوں میں ہیرا پھیری اور دیگر ممکنہ خلاف ورزیوں کی فعال نگرانی کرتا ہے۔ اس یونٹ نے اب تک بینکاری، ای کامرس، ٹیلی کام اور رئیل اسٹیٹ سمیت مختلف شعبوں میں 170 خلاف ورزیاں شناخت کیں، جن میں سے 28 پر تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں۔

سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمیشن کے مرجرز ڈیپارٹمنٹ نے 69 لین دین کی منظوری دی جن سے 30 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ممکن ہوئی۔ جبکہ ایکزمپشنز ڈیپارٹمنٹ نے 83 رعایتیں دیں، جس سے کاروبار میں سہولت پیدا ہوئی۔

آخر میں وزیرخزانہ نے کہا کہ سی سی پی میں ایک سینٹر آف ایکسیلنس بھی قائم کیا گیا ہے جو مختلف شعبہ جات پر تحقیق اور ڈیٹا پر مبنی تجزیے کے ذریعے پالیسی سازی میں معاونت فراہم کررہا ہے۔