اسٹاک مارکیٹ میں منافع خوری کا رجحان، 100 انڈیکس تقریباً 400 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس 138,217.58 پوائنٹس پر بند، 379.78 پوائنٹس (0.27 فیصد) کی کمی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو مندی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 350 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پیر کو مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 139,201.15 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 379.78 پوائنٹس یا 0.27 فیصد کمی سے 138,217.58 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ دن بھر محدود دائرے میں رہی، دورانِ کاروبار بلند ترین سطح 139,201 پوائنٹس اور کم ترین سطح 138,150 پوائنٹس رہی، کیونکہ سرمایہ کار جولائی کے اختتام پر معاہدوں کی میعاد ختم ہونے سے قبل منافع کے حصول میں مصروف رہے۔
رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، یو بی ایل، او جی ڈی سی، سسٹمز لمیٹڈ اور حبکو کی وجہ سے انڈیکس پر دباؤ رہا، جنہوں نے مجموعی طور پر 438 پوائنٹس کا منفی اثر ڈالا۔ دوسری جانب، ایچ بی ایل، ایفرٹ اور پی اے بی سی نے کچھ سہارا فراہم کیا اور مشترکہ طور پر 152 پوائنٹس کا مثبت کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج نے ایک تاریخی سطح پر اختتام کیا جس کی وجہ سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد، مضبوط معاشی اشاریے اور کارپوریٹ سطح پر شاندار منافع کی توقعات ہیں۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 3.2 فیصد یا 4,297 پوائنٹس کے تاریخی اضافے سے 138,597 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا—یہ اضافہ اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ غیر ملکی ادارہ جاتی فروخت اور سرمایہ کاروں کی سرگرمیوں میں روایتی موسمِ گرما کی سستی کے باوجود ٹریڈنگ فلور پر مجموعی رجحان نمایاں طور پر پُرامید رہا۔
عالمی سطح پر ایشیائی حصص اور جاپانی ین نے پیر کو اپنی پوزیشن برقرار رکھی کیونکہ جاپانی انتخابات حکومت کے لیے تو نقصان دہ ثابت ہوئے، لیکن اثرات وہی رہے جو پہلے ہی مارکیٹ میں شامل ہوچکے تھے، ادھر وال اسٹریٹ فیوچرز ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کی آمدنی رپورٹس کے پہلے مرحلے کے لیے خود کو تیار کرتے دکھائی دیے۔
سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یکم اگست کی ٹیرف ڈیڈ لائن سے قبل تجارتی مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوگی، جب کہ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک اب بھی پُرامید تھے کہ یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اطلاعات تھیں کہ ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ ایک ملاقات طے کرنے کے قریب ہیں، اگرچہ یہ ملاقات اکتوبر سے پہلے ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
جاپان میں، حکمران اتحاد نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ایوان بالا پر اپنا کنٹرول کھودیا، جس سے وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کی اقتدار پر گرفت مزید کمزور ہو گئی جب کہ ٹیرف کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔
ایشیبا نے اپنے عہدے پر قائم رہنے کے ارادے کا اظہار کیا جس کے ساتھ ہی مارکیٹ کی تعطیل نے ردِعمل کو محدود رکھا اور ین ڈالر کے مقابلے میں 0.4 فیصد مضبوط ہو کر 148.29 پر پہنچ گیا۔
دریں اثناء پیر کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں معمولی تنزلی کے ساتھ 0.03 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر 284.95 رہی، یعنی 8 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آل شیئر انڈیکس کا کاروباری حجم کم ہو کر 608.19 ملین شیئرز رہ گیا، جو گزشتہ کاروباری سیشن میں 609.44 ملین تھا۔
شیئرز کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 23.52 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سیشن میں 31.62 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے پرُوڈ موڈ فرسٹ 58.74 ملین شیئرز کے ساتھ سرِفہرست رہا،اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 53.17 ملین شیئرز اور پاک انٹرنیشنل بلک 51.73 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔
پیر کو 479 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں 193 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ،245 کی قیمت میں کمی جبکہ 41 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔