حکومت نے ہفتے کے روز کراچی پورٹ پر پورٹ چارجز میں 50 فیصد کمی کا اعلان کیا، جس کا مقصد تجارتی لاجسٹکس کے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
یہ اعلان وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بحری شعبے میں ڈی کاربونائزیشن اور پورٹ آپریشنز میں توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اصلاحات میں پورٹ ہینڈلنگ، جہازوں اور اسٹوریج کے چارجز میں 50 فیصد کمی شامل ہے، جبکہ ان فیسوں میں سالانہ 5 فیصد اضافے کا سابقہ منصوبہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے خشک بلک سامان کے برآمدکنندگان کو فائدہ ہوگا اور تیز تر اور کم بھیڑ والے پورٹ آپریشنز کے ذریعے اخراجات اور کاربن اخراجات میں کمی آئے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ”آپریشنل لاگت میں کمی اور لاجسٹکس کو آسان بنا کر ہم نہ صرف تجارتی مسابقت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ ماحولیاتی لچک میں بھی حصہ ڈال رہے ہیں۔یہ صرف مالی اقدام نہیں بلکہ کم اثرات اور مستقبل کے لیے تیار بحری تجارت کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ زیادہ مؤثر پورٹ جہازوں کے غیر ضروری انتظار کا وقت کم کرتا ہے، ایندھن کی کھپت گھٹاتا ہے اور سبز سپلائی چینز کی مدد کرتا ہے۔“
انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلیاں پورٹ انفراسٹرکچر کی جدید کاری، پائیداری کے فروغ اور اسمارٹ میریٹائم طریقہ کار کے نفاذ کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
وزارتِ بحری امور پورٹ کی کارکردگی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں کنٹینر کے قیام کا وقت 70 فیصد کم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دینا اور مانیٹرنگ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈرون جیسی جدید ٹیکنالوجیز تعینات کرنا شامل ہے۔ یہ اقدامات حکومت کی بحری تجارت کی لاجسٹکس کو جدید بنانے کی فعال حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بحری معیشت کی ترقی پر ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کراچی کے کورنگی فش ہاربر میں تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے جدید ایکوا کلچر پارک کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
اجلاس میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، کورنگی فش ہاربر اتھارٹی ، میرین فشریز ڈپارٹمنٹ ( اور بلوچستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے شریک تھے۔
120 ایکڑ پر محیط ایکوا کلچر پارک کی متوقع سالانہ پیداوار 360 سے 1,200 ٹن کے درمیان ہوگی، جو کہ کاشت کی جانے والی انواع اور استعمال ہونے والے نظام پر منحصر ہے۔ اس کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ 7,20,000 ڈالر سے 7.2 ملین ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے، جو مچھلیوں کی اقسام، مارکیٹ کی قیمتوں اور پیداوار کی شدت سے متاثر ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت تیار کیا جانا چاہیے، تاکہ پائیدار ایکوا کلچر کے ذریعے ملک کی بحری معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایکوا کلچر پارک کے لیے زمین کی قیمت کو وسیع پیمانے پر فارمنگ ماڈل کے مطابق مقرر کیا گیا ہے تاکہ نجی سرمایہ کاروں کے لیے مؤثر اور قابلِ برداشت بنیاد فراہم کی جا سکے۔
ماہرین نے اجلاس میں بتایا کہ پاکستان کے ساحلی پانی ایکوا کلچر کے لیے نہایت موزوں ہیں اور مختلف سمندری انواع کی کاشت کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے وفاقی وزیر نے کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کو 10 دن میں جامع نفاذی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کامیابی کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس ماڈل کو بلوچستان میں بھی پھیلانے کی تجویز دی تاکہ وہاں کی طویل ساحلی پٹی سے پائیدار بحری فارمنگ کی جا سکے۔ انہوں نے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے سب آفس کو گوادر پورٹ اتھارٹی کے احاطے میں منتقل کرنے کی ہدایت کی، تاکہ بین الادارہ جاتی تعاون کو مؤثر بنایا جا سکے اور بلیو اکانومی سے متعلق منصوبوں میں فیصلہ سازی تیز ہو سکے۔
ایک الگ اجلاس میں وفاقی وزیر نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی زمین کی الاٹمنٹ اور لیز پالیسی پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے انہیں بتایا کہ سروے آف پاکستان کو پورٹ قاسم اتھارٹی کی زمین کی نشاندہی اور حد بندی کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کے ماسٹر پلان پر نظر ثانی فی الحال جاری نیشنل پورٹس ماسٹر پلان کے وسیع فیزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق کی جا رہی ہے۔
جنید انور نے پائیدار بحری ترقی کو فروغ دینے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایکوا کلچر اور پورٹ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری خوراک کی سلامتی یقینی بنانے، برآمدات بڑھانے اور ساحلی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔
بحری امور کے وزیر کی زیرِ صدارت اجلاسوں کی یہ سیریز حکومت کی جامع بحری ترقی حکمت عملی میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کا مقصد اختراعات، ادارہ جاتی تعاون اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے پاکستان کے ساحلی وسائل کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025