پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) کی ٹیم نے چار ایسی کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے مارے جو مختلف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے درکار سامان فراہم کر رہی تھیں۔ یہ بات سی سی پی کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

یہ چھاپے لاہور اور گوجرانوالہ میں بیک وقت مارے گئے۔

ان کمپنیوں پر شبہ ہے کہ وہ ایک ایسے گٹھ جوڑ (کارٹیل) کا حصہ ہیں جس نے ٹرانسفارمر سے متعلق ٹینڈرز کے لیے بولی کے عمل میں گڑ بڑ کی ہے۔ سی سی پی نے یہ کارروائی ڈسکوز کی خریداری میں مبینہ بولی میں دھاندلی سے متعلق جاری تحقیقات کے سلسلے میں کی ہے۔

یہ تحقیقات اس وقت شروع کی گئیں جب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) سے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا کہ مختلف سپلائرز نے ایک جیسے نرخوں پر بولیاں جمع کروائیں۔

بولی کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ یہ کمپنیاں اکثر ایک جیسے نرخ پیش کرتی ہیں اور بظاہر ٹینڈرز کو آپس میں بانٹنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔

ایسی سرگرمیاں کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4(2)(e) کے تحت آتی ہیں، جو ٹینڈرز میں ملی بھگت کی ممانعت کرتی ہے۔ بولی میں گٹھ جوڑ یا دھاندلی (بِڈ رِگنگ) نہ صرف منصفانہ مسابقت کو متاثر کرتا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان بھی پہنچاتا ہے۔ اگر جاری تحقیقات میں کسی بھی قسم کی ملی بھگت ثابت ہوئی، تو کمپیٹیشن کمیشن متعلقہ کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کرے گا۔

کمیشن نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کسی بھی غیر مسابقتی سرگرمی کی اطلاع دیں۔ مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے مخبروں ( وسل بلوورز) کو 2 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک کے نقد انعام دیے جا سکتے ہیں، جو فراہم کردہ معلومات کی اہمیت اور صداقت پر منحصر ہوگا۔