غنی کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ(جی سی آئی ایل) نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے چینی اور یورپی ماہرین کی نگرانی میں درآمدی متبادل کیلشیم کاربائیڈ (اور اس سے متعلقہ مصنوعات) کے منصوبے کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد کمیشننگ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔

لسٹڈ کمپنی نے یہ پیش رفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے اپنے نوٹس میں شیئر کی۔

یہ منصوبہ حطار اسپیشل اکنامک زون میں واقع ہے۔

کمپنی نے بورس کو لکھا کہیہ منصوبہ جدید تکنیکی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اسے کیلشیم کاربائیڈ (اور اس سے متعلقہ مصنوعات) کی مقامی اور برآمدی مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو مختلف صنعتی عملوں میں کلیدی خام مال ہیں۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہیہ سنگ میل پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے منصوبے کی تجارتی سرگرمیوں کی جانب ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔

مارچ میں، کمپنی نے کہا تھا کہ اس نے ”ڈی مرجر/مرجر اسکیم آف کمپرو مائزز، انتظام اور ری کنسٹرکشن“ کی منظوری دے دی ہے، تاکہ “جی سی آئی ایل کے کیلشیم کاربائیڈ منصوبے کے پورے کاروبار اور اثاثہ جات کو جی سی ڈبلیو ایل میں ضم کیا جا سکے، جس کے تحت جی سی آئی ایل کے ہر 1,000 شیئرز کے عوض جی سی ڈبلیو ایل کے 500 شیئرز دیے جائیں گے، اور اس میں غنی پروڈکٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی پی ایل) کے مخصوص اثاثوں کی جی سی آئی ایل میں منتقلی دیگر متعلقہ معاملات شامل ہیں۔

غنی کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کو 2015 میں پاکستان میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر شامل کیا گیا اور 2017 میں اسے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔

کمپنی کی بنیادی سرگرمی طبی اور صنعتی گیسوں اور کیمیکلز کی تیاری، تجارت اور فروخت ہے۔