اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کو انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران غزہ میں امدادی مراکز اور قافلوں پر کیے گئے حملوں میں کم از کم 875 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعات ان مراکز پر پیش آئے جو امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) اور اقوام متحدہ سمیت دیگر امدادی تنظیموں کے زیرِ انتظام کام کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زیادہ ترشہادتیں جی ایچ ایف کے مراکز کے قریب ہوئیں جبکہ باقی 201 افراد امدادی قافلوں کے راستوں میں نشانہ بنے۔
جی ایچ ایف اسرائیلی ناکہ بندی کے خاتمے کے بعد غزہ میں خوراک کی تقسیم کر رہی ہے اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے امریکی نجی سیکیورٹی اور لاجسٹکس کمپنیوں کی خدمات حاصل کرتی ہے، جبکہ وہ اقوام متحدہ کے زیر قیادت امدادی نظام کو اکثر نظرانداز کرتی ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ اقوام متحدہ کے اس نظام کے تحت حماس سے وابستہ عناصر امداد لوٹتے ہیں، تاہم حماس اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
جی ایچ ایف نے پہلے رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس کے مراکز پر کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، اور اس نے اقوام متحدہ پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا تھا، جسے اقوام متحدہ نے مسترد کر دیا۔
جی ایچ ایف نے اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان ثمین الخیطانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے پاس موجود ڈیٹا مختلف قابل اعتماد ذرائع، بشمول طبی، انسانی حقوق اور انسانی امدادی تنظیموں سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔“ اقوام متحدہ پہلے ہی فاؤنڈیشن کے امدادی ماڈل کو بنیادی طور پر غیر محفوظ اور انسانی ہمدردی کے غیرجانبدارانہ معیار کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔