اسٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ: 100 انڈیکس پہلی بار 136,500 سے زائد پوائنٹس پر بند
- کے ایس ای 100 انڈیکس میں ایک دن میں 2,200 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز خریداری کا رجحان بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس نے 136,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر لی، جو کہ مارکیٹ کی تاریخ میں ایک نئی بلند ترین سطح ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران مثبت رجحان غالب رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس ایک وقت میں انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 136,841.49 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,202.77 پوائنٹس (1.64 فیصد) کے اضافے کے ساتھ 136,502.53 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ تیزی مقامی میوچل فنڈز اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کے باعث ممکن ہوئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری تیزی کے رجحان کی قیادت بینکاری شعبے کے بڑے اداروں نے کی، جہاں یوبی ایل، ایچ بی ایل، ایف ایف سی ، بینک الحبیب اور ایم سی بی نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,443 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
اس زبردست کارکردگی پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت پر کاروباری برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم نے مزید کہا کہ مثبت معاشی اشاریے اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں درست سمت میں گامزن ہیں۔
دریں اثناء ماہرین نے بھی مارکیٹ میں تیزی کی بڑی وجہ معاشی اشاریوں میں بہتری کو قرار دیا ہے جس میں خاص طور پر گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ ترسیلاتِ زر شامل ہیں۔
بروکریج ہائوس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ریسرچ سربراہ ثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ نتائج کے اعلان کا سیزن بھی شروع ہو چکا ہے لہٰذا اس پر بھی قریبی نظر رکھنا ضروری ہے۔
قبل ازیں اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اور ریفائنریز شامل ہیں۔ این بی پی، اوجی ڈی سی، ماری، پی پی ایل، ایم ای بی ایل ، ایس ایس جی سی ، ایس این جی پی ایل ، پی ایس او، پی او ایل اور یوبی ایل مثبت زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 2,351 پوائنٹس یا 1.8 فیصد اضافے کے بعد نئی بلند ترین سطح 134,299.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر پیر کو وال اسٹریٹ اور یورپی شیئر فیوچرز نے ایشیائی انڈیکسز کو نیچے دھکیل دیا کیونکہ امریکہ کی ٹیرف جنگوں میں تازہ دھمکیوں کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی رہی۔ تاہم اب بھی امید کی جا رہی ہے کہ یہ زیادہ تر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی محض زبانی دھمکیاں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ وہ یکم اگست سے یورپی یونین اور میکسیکو سے آنے والی زیادہ تر درآمدات پر 30 فیصد ٹیرف عائد کریں گے حالانکہ دونوں فریق طویل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ امریکی ٹیرف کے خلاف جوابی اقدامات کی معطلی کو اگست کے اوائل تک بڑھا دے گی اور بات چیت کے ذریعے حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گی، اگرچہ جرمنی کے وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ محصولات نافذ کیے گئے تو ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہییں۔
سرمایہ کار اب بڑی حد تک ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں کے عادی ہوچکے ہیں، اسی لیے اسٹاک مارکیٹ میں صرف معمولی کمی آئی جبکہ ڈالر کے مقابلے میں یورو میں بھی معمولی ہی فرق دیکھا گیا۔
فی الحال، جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس تقریباً مستحکم رہا جبکہ جاپان کا نکیئی انڈیکس 0.3 فیصد نیچے آیا۔
چینی بلیو چِپ اسٹاکس میں 0.3 فیصد بہتری دیکھی گئی کیونکہ اعدادوشمار کے مطابق جون میں سالانہ برآمدات میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا جو کہ توقعات سے زیادہ ہے حالانکہ امریکہ کو برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ریٹیل سیلز، صنعتی پیداوار اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) کے اعدادوشمار منگل کو جاری کیے جائیں گے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مزید گراوٹ کا شکارہو گیا۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر میں 0.09 فیصد کمی دیکھی گئی اور کاروبار کے اختتام پر روپیہ 284.72 پر بند ہوا جو کہ 26 پیسے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
تمام حصص پر مشتمل انڈیکس پر کاروباری حجم بڑھ کر 841.46 ملین شیئرز تک جا پہنچا جو پچھلے کاروباری روز 765.08 ملین شیئرز تھا۔
تاہم حصص کی مجموعی مالیت کم ہو کر 37.05 ارب روپے رہ گئی جو پچھلے سیشن میں 40.16 ارب روپے تھی۔
کریسنٹ اسٹار انشورنس 47.21 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار والی کمپنی رہی، اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 42.84 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور فرسٹ داؤد پراپرٹیز 35.58 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
پیر کے روز 475 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں سے 264 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 195 میں کمی جبکہ 16 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔