مسلمانوں کیلئے کرپٹو؟ بائنانس کا شرعی آمدن پروگرام متعارف
- پروڈکٹ تقریباً 30 ممالک کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی جن میں پاکستان بھی شامل ہے
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینجز میں سے ایک بائنانس نے جمعرات کو شریعہ ارن یعنی شرعی آمدن کے آغاز کا اعلان کیا — جو اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق پہلا ملٹی ٹوکن اسٹیکنگ پلیٹ فارم ہے اور حلال سرمایہ کاری کے عالمی مواقع کو وسعت دینے کی ایک نئی کوشش ہے۔
یہ اقدام بائنانس کے دبئی میں باضابطہ آپریشنز کے آغاز کے ایک سال بعد سامنے آیا ہے، جہاں بائنانس نے عام صارفین اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے مکمل مالیاتی خدمات فراہم کرنا شروع کی تھیں۔
بائنانس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک زیادہ جامع مالیاتی مستقبل کی تعمیر کے مشن میں انقلابی قدم ہے، یہ پروڈکٹ شریعت کے ماہر مشاورتی ادارے امانی ایڈوائزرز سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہے۔
یہ پروڈکٹ تقریباً 30 ممالک کے صارفین کے لیے دستیاب ہوگی جن میں پاکستان، افغانستان، مصر، انڈونیشیا، فلسطینی علاقے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یمن، ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل ہیں۔
سی ای او رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ ہمارا مشن ہمیشہ سے ایک شفاف اور سب کو شامل کرنے والا تجارتی ماحول فراہم کرنا رہا ہے، اس پروڈکٹ کے ذریعے ہم مسلم کمیونٹی اور شریعت پر مبنی سرمایہ کاری کو ترجیح دینے والے سرمایہ کاروں کو موجودہ دور کے سب سے دلچسپ مالیاتی انقلاب میں حصہ لینے کا اختیار دے رہے ہیں۔
یہ محض ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو اصولوں پر مبنی منصفانہ ڈیجیٹل معیشت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد ہر فرد کو مالی آزادی فراہم کرنا ہے۔
بائنانس نے وضاحت کی کہ اسلامی مالیاتی مارکیٹ کا حجم 4 کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے تاہم لاکھوں مسلمان شرعی مطابقت سے متعلق ابہام کے باعث ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کی تحریک سے باہر رہ گئے ہیں۔
بائنانس چاہتا ہے کہ شریعت ارن اس خلا کو پُر کرے اور عالمی مسلم کمیونٹی کو کرپٹو کے ذریعے غیر فعال آمدنی کمانے کا ایک شفاف اور اقدار پر مبنی ذریعہ فراہم کرے۔
یہ بائنانس کا اسلامی مالیاتی شعبے میں پہلا قدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کمپنی جدید طریقوں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی اقدار کا بھی خیال رکھتی ہے۔
بائنانس نے اس سروس کا آغاز بائنانس کوائن، ایتھرم اور سولانا کے ساتھ کیا ہے جہاں صارفین شریعت کے مطابق منافع کماسکتے ہیں۔
بائنانس کا کہنا ہے کہ جیسے کرپٹو ڈی سینٹرلائزیشن کے ذریعے روایتی مالیاتی نظام کو چیلنج کرتا ہے، ویسے ہی اسلامی مالیات اسے حلال اصولوں کے تحت چیلنج کرتی ہے جن میں رسک کی شراکت، دولت کی گردش، سود (ربا) کی ممانعت اور غیر یقینی صورتحال (غرر) سے اجتناب شامل ہیں۔ بائنانس نے کہا کہ یہ پروڈکٹ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تمام سرمایہ صرف ان منصوبوں اور اثاثوں میں لگایا جائے جو اسلامی قوانین کے مطابق حلال ہوں۔
بائنانس نے وضاحت کی کہ شرعی آمدن دراصل بائنانس ارن کے موجودہ بی این بی لاکڈ پروڈکٹس، ای ٹی ایچ اسٹیکنگ اور ایس او ایل اسٹیکنگ پر مبنی ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہے، ان تمام میکانزم کا جائزہ شریعت اسکالرز نے لیا ہے اور اسلامی صارفین کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ یہ سروس وکالہ معاہدے کے تحت فراہم کی گئی ہے — جو اسلامی مالیات کا ایک معاہدہ ہے جس میں ایک فریق دوسرے کو کسی مخصوص کام یا سلسلے کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہے۔