وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سخت مالی حالات کے باوجود پاکستان نے مالی سال 25-2024 میں ترقیاتی اخراجات کے میدان میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے، جہاں ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1.46 کھرب روپے (96 فیصد) تک پہنچ گیا، جو کہ مؤثر عملدرآمد کا مظہر ہے۔

جمعرات کو ماہانہ ترقیاتی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پہلی بار پاکستان نے ترقیاتی بجٹ کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا، جو قومی ترقی کو اولین ترجیح دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پی ایس ڈی پی کا حجم صرف 754 ارب روپے تھا، مگر اب یہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر رواں سال کے لیے بجٹ 1.4 کھرب روپے رکھا گیا تھا، مگر معاشی دباؤ کے باعث اسے کم کر کے 1.1 کھرب روپے کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر فنڈز مکمل طور پر استعمال نہ کیے جاتے تو آئندہ مالی سال پر اضافی مالی بوجھ پڑتا، کیونکہ آنے والے سال کے لیے پی ایس ڈی پی مزید کم ہو کر 1 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ہمارے پاس یہ گنجائش نہیں تھی کہ 200 سے 300 ارب روپے کے فنڈز بغیر استعمال چھوڑ دیے جائیں۔ اس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے اور بیک لاگ پیدا ہو جاتا۔ خوش قسمتی سے ہم نے نظم و ضبط اور ہم آہنگی سے اس صورتحال سے بچاؤ کیا۔

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ رواں مالی سال میں بلوچستان کو ترجیح دی گئی، اور وہاں کے 147 منصوبوں کے لیے 210 ارب روپے مختص کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر کے یہ منصوبے بلوچستان کی معیشت کو متحرک کریں گے اور ترقی و روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اُڑان پاکستان کے تحت ہم ملکی معیشت میں بہتری کی طرف پیش رفت دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد تک گر گئی ہے، جو کہ گزشتہ 9 سال کی کم ترین سطح ہے۔ یہ پچھلے سال کے مقابلے میں 23.4 فیصد کی کمی ہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان کی معاشی کارکردگی عالمی چیلنجز کے باوجود مضبوط رہی۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد تک پہنچ گئی اور افراط زر کی اوسط شرح 4.5 فیصد رہی، جو مالی سال 2016 کے بعد سب سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد کا اضافہ ہے۔ اسی طرح پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 65 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن 11.740 کھرب روپے رہی، جس کی مدد سے مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے 3.7 فیصد پر آ گیا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.8 ارب ڈالر کا سرپلس حاصل ہوا، جو کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے کا نتیجہ ہے۔

ترقیاتی محاذ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جون 2025 میں سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 90.4 ارب روپے لاگت کے 33 منصوبوں کی منظوری دی، جبکہ 19 بڑے منصوبے 1.423 کھرب روپے لاگت کے ساتھ ایکنک کو سفارش کے لیے بھیجے گئے۔ باقی 7 منصوبے مزید جانچ کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔ ان منصوبوں سے آئندہ مہینوں میں 9,968 براہ راست اور 47,174 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ اہم شعبہ جات میں کی جانے والی سرمایہ کاری درج ذیل ہے: توانائی کے لیے 500 ارب روپے سے زائد، ٹرانسپورٹ میں حیدرآباد-سکھر موٹروے 395 ارب روپے، ایسٹ بے ایکسپریس وے 301 ارب روپے، تعلیم کے لیے 17 منصوبوں کے تحت 43 ارب روپے، صحت کے لیے 25.5 ارب روپے اور پانی کے لیے گھنڈ ڈیم پر 6.4 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ منصوبوں کی مؤثر جانچ و نگرانی کے ذریعے جون میں 1 ارب روپے کی بچت کی گئی۔

وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، جو 113 سے بڑھ کر 100 نمبر پر آ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ”آپریشن بنیان المرصوص“ کے ذریعے اپنی دفاعی برتری کا مظاہرہ کیا، اور پہلگام حملے اور ایران-اسرائیل کشیدگی پر پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا نے بھارت کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا، اور سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ اس سلسلے میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 30 شہروں میں 2,150 ملین روپے مالیت کا ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی منصوبہ جاری ہے، جو تعلیم، صحت، سیاحت اور کاروبار کے مواقع میں انقلابی تبدیلی لا رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025