وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی ترقیاتی تعاون کو ازسرِ نو فعال کرنے کے لیے عالمی سطح پر نئے عزم کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ 2030 کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

سیویلہ، اسپین میں منعقدہ ”فنانسنگ فار ڈیولپمنٹ“ (FfD4) کی چوتھی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ایک کثیر اسٹیک ہولڈر راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کی بحالی صرف خواہش نہیں بلکہ اس نازک عالمی موڑ پر ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے سیویلا اعلامیے پر مؤثر عملدرآمد اور حقیقی پیش رفت کے لیے تین نکاتی حکمتِ عملی پیش کی۔

پہلا قدم یہ ہے کہ اعلانات سے ہٹ کر عملی نتائج کی طرف بڑھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی ایجنڈوں میں ممالک کی خودمختاری کو مقدم رکھا جائے اور قومی حکمتِ عملیوں کو عطیہ دہندگان کے ڈھانچوں پر ترجیح دی جائے تاکہ یہ پالیسیاں زمینی حقائق سے ہم آہنگ اور پائیدار ثابت ہوں۔

انہوں نے خاص طور پر موسمیاتی اقدامات اور ایس ڈی جیز سے متعلق سرمایہ کاری کے لیے آسان اور مخلوط مالیاتی ذرائع تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مالی دباؤ کے شکار ترقی پذیر ممالک میں نجی سرمایہ کاری کو متحرک کیا جا سکے۔

عالمی مالیاتی نظام کی مکمل اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ کثیرالطرفہ ترقیاتی بینکوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کو قرضوں کی شرائط اور اندازوں میں ممالک کی اصلاحاتی کوششوں، ماحولیاتی کمزوریوں اور ترقیاتی عزائم کو بہتر طور پر جھلکانا چاہیے۔

انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے اندر ترقیاتی تعاون کے نقطہ نظر میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور نتائج پر مبنی حکمت عملیوں کو اپنانے کا مشورہ دیا جو ناپے جا سکنے والے ترقیاتی نتائج سے جڑی ہوں۔

محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی مزاحمت، صنفی برابری اور ڈیجیٹل شمولیت جیسے موضوعات کو شامل کیا جائے، اور سہ رخی تعاون کو مخصوص اور ہم مرتبہ ممالک کے تجربات پر مبنی حل کے ذریعے وسعت دی جائے، نہ کہ بیرونی مسلط کردہ ماڈلز کے تحت ایسا کیا جائے۔

تیسری کلیدی تجویز کے طور پر، وزیرِ خزانہ نے سیویلا اعلامیے پر تیز تر عملدرآمد کے لیے عالمی سطح پر ڈیلیوری میکانزمز کے قیام کی تجویز دی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں نجی سرمایہ کاری کے خطرات کم کرنے والے پلیٹ فارمز جیسے گارنٹیز، فرسٹ لوس کیپیٹل، اور نتائج سے منسلک بانڈز شامل کیے جا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، وزیر خزانہ نے ایک عالمی ادارے یا ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز دی جو سیویلا ایجنڈے پر عملدرآمد کی نگرانی کرے، ذمہ داریاں طے کرے، وقت کا تعین کرے اور جوابدہی کے مؤثر نظام کو یقینی بنائے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی شمولیت پر مبنی اور نتائج پر مرکوز شراکت داریوں کے فروغ کے عزم کو دہرایا۔