وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مالی سال 2025-26 کے دوران چینی کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ (آزاد) رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چینی کی درآمد پر کسی قسم کی سبسڈی یا ٹیکس چھوٹ دستیاب نہیں ہو گی۔

وزارت خزانہ نے یہ مؤقف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی وعدوں اور ملکی مالی پوزیشن کے تناظر میں واضح طور پر اپنایا ہے۔

27 جون 2025 کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے مارکیٹ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث ای سی سی کے چیئرمین و وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ہنگامی بنیادوں پر ایک سمری پیش کرنے کی منظوری طلب کی، جو منظور کر لی گئی۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نےای سی سی کو آگاہ کیا کہ 19 جون کو وزیراعظم کی تشکیل کردہ خصوصی کمیٹی (16 مارچ 2025 کو ڈپٹی وزیراعظم کی زیر صدارت قائم کی گئی) کا اجلاس ہوا جس میں چینی کی بلند قیمتوں اور محدود اسٹاکس پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی نے کہا کہ چینی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کا واحد حل یہ ہے کہ مارکیٹ میں سپلائی بڑھائی جائے۔ متعدد درخواستوں کے باوجود شوگر ملز نے ایکس مل قیمت کو طے شدہ حد (روپے 154 تا 159 فی کلو) تک لانے سے انکار کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی نے 500,000 میٹرک ٹن سفید چینی درآمد کرنے کی سفارش کی۔

23 جون کو ہونے والے شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) کے اجلاس میں چینی کے موجودہ ذخائر کا جائزہ لیا گیا جو 2.575 ملین میٹرک ٹن رپورٹ کیے گئے۔ کرشنگ سیزن (21 نومبر 2024 سے) کے بعد سے ماہانہ اوسط استعمال 0.541 ملین میٹرک ٹن رہا ہے، جو صرف موجودہ سیزن کی طلب کو بمشکل پورا کرے گا، اور مالی سال 2025-26 کے لیے کوئی اضافی اسٹاک دستیاب نہیں ہو گا۔

چینی کے تاجروں اور وفاقی و صوبائی اداروں سے مشاورت سے معلوم ہوا کہ رسد محدود اور طلب بڑھنے کے سبب ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیش گوئی ہے کہ نومبر 2025 تک چینی کی قیمت ایکس مل سطح پر 190 روپے اور پرچون سطح پر 200 روپے فی کلو تک جا سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس ممکنہ اضافے کو روکنے کے لیے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے سفید چینی کی درآمد کی تجویز دی اور 30 ستمبر 2025 تک چینی کی درآمد پر ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے استثنیٰ مانگا۔

وزارت نے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل کی تجویز بھی دی جو درآمد کے انتظامات، قیمتوں کا تعین، اور تقسیم کی نگرانی کرے گی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ (چیئرمین)، وزیر تجارت، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور، سیکرٹریز خزانہ، تجارت، قومی غذائی تحفظ اور صنعت و پیداوار، چیئرمین ایف بی آر، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، اور چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) شامل ہوں گے۔

کمیٹی چینی کی درآمد کی مقدار اور خریداری کا طریقہ طے کرے گی، خواہ وہ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) بنیاد پر ہو، نجی درآمد کنندگان کے ذریعے، یا ٹی سی پی کے توسط سے۔

ٹی سی پی نے 100,000 میٹرک ٹن (+/- 5 فیصد) چینی کی درآمد کے لیے تخمینی لاگت، بشمول اور بغیر ڈیوٹی و ٹیکس، فراہم کر دی ہے۔

پیشکش کے بعد وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ای سی سی سے 0.500 ملین میٹرک ٹن سفید چینی درآمد کرنے کی منظوری باقاعدہ طور پر طلب کی۔

تاہم، وزارت خزانہ نے واضح کیا کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں چینی کی درآمد کے لیے کوئی سبسڈی مختص نہیں کی گئی، اور آئی ایم ایف شرائط کے تحت ٹیکس یا ڈیوٹی میں کسی چھوٹ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ای سی سی نے اپنی سابقہ ہدایت کو دہرایا کہ چینی کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے اور کسی بھی درآمدی تجویز کے ساتھ مکمل مالی تخمینہ ای سی سی کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔

تفصیلی بحث کے بعد، ای سی سی نے تجویز کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی، جو آئندہ سفارشات اور مالیاتی تجزیہ پیش کرے گی تاکہ حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025