نیشنل ٹیرف کمیشن (این ٹی سی) نے چین سے درآمد کیے جانے والے پولیسٹرین پر 21 فیصد تک اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کردی ہیں جس کے باعث درآمد کنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک امپوٹر کے مطابق حکومت ایک طرف دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بتدریج ڈیوٹیز میں کمی کرے گی اور دوسری طرف این ٹی سی درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔ یہ متضاد طرزِعمل پاکستان کی معیشت کو مزید بحران کی طرف دھکیلنے کا خطرہ رکھتا ہے۔

درآمد کنندگان نے وزارتِ تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 18 جون 2025 کو جاری کردہ این ٹی سی کے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر واپس لے۔ انہوں نے این ٹی سی ٹریبونل سے بھی رجوع کر لیا ہے اور اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

این ٹی سی کے ایک خط کے مطابق انہوں نے 26 مئی 2024 کو اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ایکٹ 2015 کے سیکشن 23 کے تحت ایک اینٹی ڈمپنگ تحقیق کا آغاز کیا جو چین سے پاکستان درآمد کیے جانے والے پولیسٹر فلیمنٹ یارن - ڈراؤن ٹیکسچرڈ یام کی ڈمپنگ سے متعلق تھی، اور اس کے نتیجے میں مقامی صنعت کو پہنچنے والے مادی نقصان کا جائزہ لیا گیا جو یہ یارن تیار کرتی ہے۔

اس تحقیق کے لیے درخواست گیٹرون انڈسٹریز لمیٹڈ، کراچی اور روپالی پولیسٹر لمیٹڈ، لاہور کی جانب سے دائر کی گئی، یہ پاکستان میں ڈراؤن ٹیکسچرڈ یارن تیار کرنے والے ادارے ہیں۔ کمیشن نے اس کیس میں 15 نومبر 2024 کو ایک ابتدائی فیصلہ دیا جو کہ ایکٹ کے سیکشن 37 کے تحت تھا جس میں چار ماہ کے لیے عبوری اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کردی گئی۔

بعد ازاں، کمیشن نے اس تحقیق میں اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ایکٹ اور 2022 کے قواعد کے تحت ایک حتمی مثبت فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا:زیرِ تحقیق مصنوعات چین سے درآمد کی جانے والی پولیسٹر فلیمنٹ یارن ہے، جو پاکستان کسٹمز ٹیرف کوڈز 5402.3300 اور 5402.6200 کے تحت آتی ہے۔یہ مصنوعات عموماً ٹیکسٹائل کپڑوں، جرابوں وغیرہ کی تیاری میں بطور خام مال استعمال ہوتی ہے۔

ڈمپنگ اور نقصان کے تعین کے لیے تحقیقات کی مدت درج ذیل ہے:(i) ڈمپنگ کے تعین کے لیے یکم جنوری 2023 سے 31 دسمبر 2023 تک؛ اور(ii) نقصان کے تعین کے لیے یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2023 تک۔

ڈمپنگ کے تعین کے حوالے سے این ٹی سی نے مؤقف اختیار کیا کہ چین سے زیرِ تحقیق مصنوعات کے منتخب برآمد کنندگان/غیر ملکی پیداواری اداروں کے لیے انفرادی ڈمپنگ مارجن ایکٹ کے حصے III، IV اور V کے تحت طے کیے گئے ہیں۔ ان منتخب برآمد کنندگان/پیدا کنندگان کے لیے معمول کی قیمت اور برآمدی قیمت اُن کی جانب سے کمیشن کے سوالناموں کے جواب میں فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر، تصدیق اور تجزیے کے بعد مقرر کی گئی ہے۔

مقامی صنعت کو پہنچنے والے نقصان کا تعین ایکٹ کے حصہ VI کے تحت کیا گیا ہے۔ کمیشن نے یہ ثابت کیا ہے کہ مقامی صنعت کو ڈمپنگ شدہ درآمدات کے حجم، قیمتوں میں کمی، قیمتوں کو دبانے، پیداوار، فروخت، مارکیٹ شیئر، پیداواری صلاحیت، اجرت، استعدادِ کار، منافع اور سرمایہ کاری پر منافع کے باعث مادی نقصان پہنچا ہے۔

کمیشن نے ایکٹ کے سیکشن 18 کے تحت ان عوامل کا بھی جائزہ لیا جو ڈمپنگ کے علاوہ مقامی صنعت کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے تھے۔

کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ زیرِ تحقیق مصنوعات کو چین سے پاکستان میں ڈمپنگ شدہ قیمتوں پر درآمد کیا گیا، جو مقامی صنعت کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہیں۔

کمیشن نے ایکٹ کے سیکشن 50 کے تحت فیصلہ کیا کہ زیرِ تحقیق مصنوعات، جو پی سی ٹی کوڈز 5402.3300 اور 5402.6200 کے تحت آتی ہیں، کی ڈمپنگ شدہ درآمدات پر 15 نومبر 2024 سے مؤثر ہونے والے پانچ سال کے لیے حتمی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز عائد کی جائیں گی۔

این ٹی سی کے مطابق حتمی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی شرح عبوری اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی سے زیادہ ہے، تاہم ایکٹ کے سیکشن 55(2) کے تحت عبوری اور حتمی ڈیوٹی کی شرح کے درمیان فرق واپس وصول نہیں کیا جائے گا۔

کمیشن نے مزید وضاحت کی کہ زیرِ تحقیق مصنوعات کی ڈمپنگ شدہ درآمدات پر عائد کی جانے والی حتمی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیاں دیگر تمام قابلِ وصول ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے علاوہ ہوں گی، جو کسی بھی دیگر قانون کے تحت لاگو ہوتی ہیں۔یہ حتمی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیاں کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت کسٹمز ڈیوٹی کی طرح وصول کی جائیں گی اور نیشنل ٹیرف کمیشن کے نان لیپس ایبل پی ایل ڈی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025