وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا حالیہ اعلان کہ وفاقی حکومت نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے معیار پر نظرثانی پر غور کر رہی ہے تاکہ اسے ملک کی ماحولیاتی اور موسمیاتی حقیقتوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے، سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ ایک ایسے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جس میں مالیاتی پالیسیوں کو موسمیاتی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا جا رہا ہے، تاکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

موجودہ آبادی پر مبنی این ایف سی فارمولا، جس میں 82 فیصد وزن آبادی کو دیا جاتا ہے، جبکہ باقی وزن غربت، محصولات کی پیداوار اور الٹی آبادی کثافت جیسے عوامل ، کو رجعت پسند قرار دیتے ہوئے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے عندیہ دیا ہے کہ حکومت اگست میں این ایف سی کے اہم اجلاس کے دوران موسمیاتی مطابقت اور دیگر سماجی شعبوں کے اشاریوں کو کلیدی معیار کے طور پر شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔

یہ اعلان مرکز کی اس بڑھتی ہوئی سنجیدگی کا عکاس ہے کہ بین الصوبائی مالیاتی معاہدے میں آبادی کے غالب کردار کو متوازن کیا جائے۔ حالیہ مہینوں میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی این ایف سی فارمولے پر بنیادی نظرثانی کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

چونکہ 2009 میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے نفاذ کے بعد سے ملکی معیشت کی سمت کافی حد تک بدل چکی ہے، اس لیے مالیاتی تقسیم کے فریم ورک پر دوبارہ غور کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ موجودہ فارمولا، جو آبادی کو حد سے زیادہ ترجیح دیتا ہے، طویل عرصے سے صوبوں کے درمیان ترقیاتی اشاریوں، بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی کی ضروریات جیسے ساختی تفاوت کو نظرانداز کرتا آیا ہے۔

اس سے بھی بدترامر یہ ہے کہ اس نے بے قابو آبادی کے اضافے کے لیے ایک نامناسب ترغیب پیدا کی ہے، جو اقتصادی، ماحولیاتی اور سماجی وسائل پر ناقابل برداشت دباؤ ڈال رہی ہے جب کہ ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بھی بنا رہی ہے۔

سالانہ 2.55 فیصد کی تیز رفتار آبادی میں اضافہ ملک کے پہلے ہی محدود وسائل کو تیزی سے ختم کر رہا ہے، جبکہ بدتر ہوتا ہوا موسمیاتی بحران معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو برباد کر رہا ہے۔ درحقیقت، یہ دونوں مل کر ہمارے سامنے موجود دو بڑے وجودی خطرات ہیں۔

اسی تناظر میں یہ خوش آئند ہے کہ حکومت صرف این ایف سی کے فریم ورک پر نظرثانی نہیں کر رہی بلکہ اس نے آنے والے مالی سال کے بجٹ میں موسمیاتی استحکام پر مبنی ترقی کے لیے بھی نمایاں فنڈ مختص کیا ہے۔ تاہم بجٹ دستاویز میں پالیسی تضادات اور موسمیاتی اہداف کو ترجیح دینے کے طریقہ کار کی واضحیت کا فقدان نظر آتا ہے۔

بجٹ کی ایک اہم خصوصیت آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ کلائمٹ بجٹ ٹیگنگ ٹول کا نفاذ ہے، جس کا مقصد پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے اخراجات کو موسمیاتی اہداف سے متعلق ہونے کی بنیاد پر شناخت اور درجہ بندی کرنا ہے۔

اس فریم ورک کے تحت منصوبوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، صورتحال سے ہم آہنگی، اخراج میں کمی اور معاون سرگرمیاں۔ اس سلسلے میں حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جیسے سیلاب، سے نمٹنے کے لیے تیاری کے اقدامات یعنی موافقت کے لیے 85.43 ارب روپے مختص کیے ہیں؛ جبکہ 603 ارب روپے اخراج میں کمی کے لیے رکھے گئے ہیں، جس کا مقصد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہے؛ اور 28.33 ارب روپے معاون سرگرمیوں، جیسے تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی، کے لیے رکھے گئے ہیں۔

اگرچہ سب سے زیادہ فنڈنگ اخراج میں کمی کے لیے مختص کی گئی ہے، لیکن وزیر خزانہ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا اور فوری چیلنج موافقت ہی ہے، اور یہ موقف بالکل درست ہے، کیونکہ اس شعبے میں وہ تمام بنیادی اقدامات شامل ہیں جو عوامی تحفظ اور معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، جیسے سیلاب سے تحفظ، آبی وسائل کا موثر انتظام اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں زرعی طریقے،اس کے باوجود صورتحال سے ہم آہنگی کے لیے مختص کی گئی رقم نہایت کم اور عدم توازن کی شکار ہے۔

قحط برداشت کرنے والی فصلوں کی نئی اقسام کی تیاری، بوسیدہ انفرااسٹرکچر کی مرمت و بہتری اور شدید موسمی حالات سے بروقت خبردار کرنے والے نظاموں کے قیام جیسے اہم شعبے بجٹ میں خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں کر سکے، جو باعثِ تشویش امر ہے۔

مزید یہ کہ اخراج میں کمی کے فریم ورک کے اندر بھی تضادات نمایاں ہیں: ایک طرف تو فوسل فیول انڈسٹری پر 2.5 فیصد کاربن لیوی عائد کی گئی ہے، مگر دوسری طرف شمسی توانائی سے متعلق درآمدات پر نئے محصولات اس مثبت پیش رفت کو زائل کر دیتے ہیں۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کا بجٹ 3.5 ارب روپے سے کم کرکے 2.7 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس سے تحقیق، منصوبہ بندی اور استعداد کار میں اضافے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

ایسے حالات میں پالیسی سازوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگرچہ این ایف سی ایوارڈ میں موسمیاتی شعور پر مبنی اصلاحات خوش آئند ہیں لیکن ان اصلاحات کو قومی موسمیاتی ایجنڈے میں ہم آہنگی اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر موثر نہیں بنایا جا سکتا۔

موجودہ بجٹ میں واضح تضادات اور سمت کی کمی دکھائی دیتی ہے، بالخصوص اُن اقدامات کے حوالے سے جن کی صورتحال سے ہم آہنگی (ایڈیپٹیشن) کے میدان میں فوری ضرورت ہے۔ جب تک یہ خلا پُر نہیں کیے جاتے، مالیاتی سوچ میں کوئی بھی تبدیلی ٹھوس نتائج دینے میں ناکام رہے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025