ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایران میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کیلئے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے خصوصی پروازوں کا آپریشن شروع کردیا ۔
پی آئی اے کی پہلی خصوصی پرواز ایران میں پھنسے 107 پاکستانیوں کو لے کر منگل کی رات دیر گئے اشک آباد سے اسلام آباد پہنچ گئی۔
پی آئی اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایرانی فضائی حدود کی بندش کے باعث ایران میں موجود پاکستانی شہری زمینی راستوں کے ذریعے ترکمانستان کے شہر اشک آباد پہنچے۔
قومی ایئرلائن کے مطابق خصوصی پرواز حکومت کی ہدایات پر روانہ کی گئی جب کہ ایران اور ترکمانستان میں موجود پاکستانی سفارتخانوں نے اس تمام عمل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
پی آئی اے نے کہا کہ مشکل حالات میں قوم کے مفاد میں خدمات فراہم کرنا ہماری دہائیوں پر محیط روایت کا تسلسل ہے، جس پر ہمیں فخر ہے۔
اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، حکومت نے عارضی سفری ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ایران اور عراق کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دفتر خارجہ نے تمام پاکستانی زائرین کو سیکیورٹی صورتحال میں مسلسل تبدیلی کے پیش نظر ایران اور عراق کے سفر پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
حکام نے زور دیا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
16 جون کو نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران سے 450 زائرین کا انخلا مکمل کرلیا اور باقی پھنسے ہوئے افراد کی مدد کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عراق میں پاکستانی سفارتخانہ وہاں فضائی حدود کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے زائرین سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ممکنہ انخلا کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔