بھارت میں لندن جانے والے مسافر طیارے کے المناک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد ہفتے کے روز بڑھ کر کم از کم 279 ہو گئی، جب کہ حکام متاثرہ خاندانوں سے ڈی این اے کے ذریعے لاشوں کی شناخت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایئر انڈیا کا بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارہ جمعرات کے روز دوپہر کے وقت مغربی بھارتی شہر احمد آباد میں رہائشی عمارتوں سے ٹکرا کر دھماکے سے پھٹ گیا۔ حادثے سے قبل طیارے نے ”مے ڈے“ کال بھی دی تھی۔

پولیس ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سے 279 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، جس سے یہ حادثہ 21ویں صدی کے بدترین فضائی سانحات میں سے ایک بن چکا ہے۔

متاثرہ مسافر امتياز علی، جن کے چھوٹے بھائی اس پرواز میں سوار تھے، نے غم زدہ لہجے میں کہا کہ کسی کے جانے کا خلا کوئی نہیں بھر سکتا۔

ہفتے کے روز ریسکیو اداروں نے امدادی کارروائیاں جاری رکھیں اور طیارے کے پچھلے حصے سے ایک بری طرح جلی ہوئی لاش کو نکالا، جس کے بعد ملبہ ہٹانے کے لیے کرینوں کا استعمال کیا گیا۔

زمین پر موجود کم از کم 38 افراد بھی اس حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔

انیل پٹیل نے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو دو سال میں پہلی بار دیکھا، یہ ایک شاندار لمحہ تھا، ان کے بیٹے اور بہو نے ایئر انڈیا کی پرواز پر سوار ہونے سے پہلے ان سے اچانک ملاقات کرکے انہیں خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا تھا۔

انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ اور اب… کچھ بھی نہیں بچا، جو خدا کو منظور تھا، وہی ہوا۔

**بلیک باکس کی تلاش **

احمد آباد میں حادثے کا شکار مسافروں کے سوگوار اہل خانہ ڈی این اے نمونے فراہم کر رہے ہیں، جن میں سے بعض کو اس عمل میں مدد دینے کے لیے بیرونِ ملک سے بھارت آنا پڑا۔

ریاستی حکومت کی جانب سے جاری کردہ مناظر میں دیکھا گیا کہ ایک مسافر کی پہلی شناخت شدہ لاش کو سفید تابوت میں رکھا گیا اور پولیس اسکواڈ کے ساتھ ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

ایئر انڈیا کے مطابق طیارے میں سوار افراد میں 169 بھارتی، 53 برطانوی، 7 پرتگالی، اور ایک کینیڈین شہری شامل تھے، جب کہ عملے کے 12 ارکان بھی موجود تھے۔

حکام نے بتایا کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد ڈی این اے شناخت کے طویل اور پیچیدہ عمل کی تکمیل کے بعد ہی جاری کی جائے گی۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ممتاز سیاست دان سے لے کر ایک نوجوان چائے فروش تک مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد مسافر، 40 سالہ وِشوَش کمار رمیش، جو کہ برطانوی شہری ہیں، نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز سے اسپتال کے بستر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں مجھے بھی لگا کہ میری موت یقینی ہے لیکن جب آنکھ کھلی تو احساس ہوا کہ میں زندہ ہوں… کیسے بچ گیا، یہ میں خود بھی نہیں سمجھ پایا۔

بھارتی وزیرِ ہوا بازی رام موہن نائیڈو کنجراپو نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ طیارے کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، یعنی بلیک باکس، برآمد کر لیا گیا ہے اور اسے حادثے کی تحقیقات میں ”نمایاں مددگار“ قرار دیا ہے۔

ماہرینِ فرانزک ابھی تک دوسرا بلیک باکس تلاش کر رہے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کہ طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد اچانک بلندی کیوں کھو بیٹھا اور زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوا۔

ہفتے کے روز وزیرِ ہوا بازی نے کہا کہ حکام کو “بوئنگ 787 طیاروں کی مزید سخت نگرانی کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور اب تک ایئر انڈیا کے 34 میں سے 8 ڈریملائنر طیاروں کا معائنہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے جو بھی ضروری اقدامات چاہیں گے، وہ کیے جائیں گے۔

امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے بتایا ہے کہ وہ ایئر انڈیا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ بوئنگ 787 ڈریملائنر سیریز کا پہلا بڑا حادثہ ہے۔