اسرائیل نے جمعے کو ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن میں جوہری تنصیبات اور میزائل فیکٹریاں شامل تھیں، اور کئی فوجی کمانڈرز کو ہلاک کیا، جس کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اسرائیل کے اہم حلیف ہیں، نے کہا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے لیے دی گئی آخری تنبیہ کو مسترد کر کے خود ہی حملے کو دعوت دی ہے۔
انہوں نے اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بہت موثر رہا۔ ہم نے انہیں موقع دیا لیکن انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا،انہیں سختی سے نشانہ بنایا گیا اور ابھی مزید حملے ہوں گے، بہت کچھ باقی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا،”دو ماہ قبل میں نے ایران کو 60 روز کا الٹی میٹم دیا تھا کہ ’معاہدہ کرو‘۔ انہیں وہ کرنا چاہیے تھا! آج دن 61 ہے… اب شاید انہیں دوسرا موقع ملا ہے!“
واشنگٹن نے کہا کہ اس کارروائی میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔
ایران نے رات بھر کے حملے کا سخت جواب دینے کا عندیہ دیا، جس میں اس کی مسلح افواج اور طاقتور انقلاب پسند گارڈز کے سربراہ ہلاک ہوئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 100 ڈرونز اس کے علاقے کی طرف بھیجے گئے، تاہم ایک ایرانی ذرائع نے اس کی تردید کی۔
عالمی وقت کے مطابق تقریباً صبح 8 بجے، اسرائیلی شہریوں کو حفاظتی علاقوں کے قریب رہنے کا حکم واپس لے لیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ زیادہ تر یا تمام ڈرونز کو روک لیا گیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے ایک ٹیلی ویژن پیغام میں ایرانیوں سے اپنے رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہونے پر زور دیا اور کہا کہ طاقتور جواب اسرائیل کو اس کے احمقانہ عمل پر پچھتانے پر مجبور کر دے گا۔
کروڈ آئل کی قیمت تقریباً 8 فیصد بڑھ گئی کیونکہ تیل پیدا کرنے والے بڑے علاقے میں مزید جوابی حملوں کا خدشہ بڑھ گیا۔ تاہم ایرانی نیشنل آئل کمپنی نے کہا ہے کہ ریفائنری اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کو نقصان نہیں پہنچا اور وہ کام کر رہی ہیں۔
ایران کی نورنیوز نے رپورٹ دی ہے کہ تہران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں 78 افراد شہید اور 329 زخمی ہوئے ہیں۔
ایک اسرائیلی سیکورٹی ذرائع کے مطابق موساد کے کمانڈوز حملے سے پہلے اسلامی جمہوریہ کے اندر پوری طرح سرگرم تھے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی اور فوج نے ایران کے اسٹریٹجک میزائل نظام کے خلاف کئی خفیہ آپریشن کیے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیل نے تہران کے قریب ایک حملہ آور ڈرون بیس بھی قائم کیا ہے۔ فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام پر بمباری کی، جس میں درجنوں ریڈار اور زمیں سے فضا میں مار کرنے والے میزائل لانچر تباہ کیے گئے۔
ایران نے دعویٰ کیا کہ کئی اعلیٰ کمانڈرز اور چھ جوہری سائنسدان شہید ہوئے، جن میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری اور انقلابی گارڈز کے سربراہ حسین سلامی شامل ہیں۔
دو مقامی ذرائع کے مطابق کم از کم 20 سینئر کمانڈرز شہید ہوئے۔ ان میں انقلابی گارڈز کی ایروسپیس فورس کے سربراہ، امیر علی حاجی زادہ بھی شامل ہیں۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے اسرائیلی رپورٹس کی تردید کی کہ تہران نے اسرائیل کی جانب ڈرونز بھیجے ہیں۔
ایرانی یورنیم افزودگی کے پلانٹ کو مبینہ طورپر شدید نقصان پہنچا ہے
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے کہا کہ ایران کی مرکزی یورنیم افزودگی کی سہولت نطنز کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے آن لائن پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس کارروائی میں 200 اسرائیلی لڑاکا طیارے شامل تھے جنہوں نے 100 سے زائد اہداف پر حملے کیے، اور یہ آپریشن طویل ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک عہدے پر براجمان وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے نازی ہولوکاسٹ کے خوفناک واقعات کا حوالہ دے کر ایران پر حملے کا جواز پیش کیا اور اسے اسرائیل کو مستقبل کے وجودی خطرے سے بچانے کے لیے فیصلہ کن اقدام قرار دیا۔
ان کے دفتر نے کہا ہے کہ وہ بعد ازاں دن میں ٹرمپ سے بات کریں گے۔
واشنگٹن کے وقت تقریباً صبح 6 بجے، ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”میں نے ایران کو بار بار موقع دیا کہ وہ معاہدہ کرے۔“
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”بہت جان و مال کا نقصان ہو چکا ہے، لیکن اب بھی وقت ہے کہ اس قتل عام کو روکا جائے، کیونکہ آئندہ حملے اور بھی زیادہ شدید ہوں گے۔ ایران کو معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔“
ایک وقت تھا جب اسرائیل کو توقع تھی کہ ایران نواز ملیشیاؤں کی طرف سے شدید جوابی حملے ہوں گے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے ”اپنا ظالمانہ اور خونریز ہاتھ کھولا ہے“ اور اسے ”کڑوا انجام“ بھگتنا پڑے گا۔
تاہم اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ چھڑنے کے بعد اسرائیل نے ایران کے حامیوں خاص طور پر حماس اور لبنان کی حزب اللہ کے اعلیٰ رہنماؤں کو قتل اور یمن میں وسیع علاقوں پر قابض حوثیوں پر حملے کر کے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل، ایران، عراق اور اردن کی فضائی حدود سے ایئرلائنز کا انخلا
فلائٹ ریڈار24 کے ڈیٹا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد متعدد ایئرلائنز نے اسرائیل، ایران، عراق اور اردن کی فضائی حدود سے پروازیں منسوخ یا موڑ دیں۔
اسرائیلی ایئرلائنز ایل آل، اسرایر اور آرکیا نے اپنے طیارے اسرائیل سے منتقل کرنے کا اعلان کیا جبکہ تل ابیب کا بن گوریون ایئرپورٹ بند کر دیا گیا۔
دبئی کی ایئرلائن ایمیرٹس نے عراق، اردن، لبنان اور ایران کی پروازیں منسوخ کر دیں کیونکہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔ تاہم خلیج کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی جاری رہی اگرچہ کچھ شپ اونرز نے خطے سے دور رہنے کی کوشش کی۔
اسرائیل نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانے بند کر دیے اور شہریوں کو سفارتی ویب سائٹس کے ذریعے ہدایت دی ہے کہ وہ چوکنا رہیں اور عوامی مقامات پر یہودی یا اسرائیلی علامات ظاہر نہ کریں۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ دسیوں ہزار فوجیوں کو طلب کر کے تمام سرحدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے بھی کشیدگی کم کرنے کی عالمی اپیلوں میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایک نہایت نازک وقت پر جب امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا تاکہ پورے خطے اور دنیا کو بچایا جا سکے، ایک نئی اور خطرناک کشیدگی شروع ہو گئی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کرنے والے عمان نے اسرائیلی حملے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور عالمی برادری سے اس خطرناک روش کو روکنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے ترجمان نے امریکہ پر اسرائیلی کارروائی میں معاونت کا الزام عائد کیا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں اور اسرائیل نے اپنے دفاع میں یکطرفہ اقدام کیا ہے۔
امریکی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ کسی نئے جوہری معاہدے، جو 2015 کے اُس معاہدے کی جگہ لے جس سے ٹرمپ دستبردار ہو چکے، کی شرط یہ ہوگی کہ ایران یورینیم افزودگی کا مکمل خاتمہ کرے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بنیادی عمل ہے۔
اتوار کو ایران سے جوہری مذاکرات متوقع
ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
تاہم، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے جمعرات کو تقریباً 20 سال بعد پہلی بار ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کرنے والا ملک ہے جبکہ اسرائیل نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور اسے مشرق وسطیٰ کی واحد جوہری طاقت تصور کیا جاتا ہے۔
ایران میں کچھ حکومت مخالف شہریوں نے اسرائیلی حملے کو مذہبی حکمرانوں کے زوال کا موقع قرار دیا تاہم تہران میں ایک ایسے شخص، جو مذہبی رہنماؤں کا حامی نہیں، نے کہا کہ ایران کو جواب دینا لازم ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ہم جواب دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یا تو ہم ہتھیار ڈال دیں اور وہ ہمارے میزائل لے لیں، یا ہم ان پر حملہ کریں۔ اس کے سوا کوئی راستہ نہیں، اور اگر ہم نے کچھ نہ کیا، تو بالآخر ہمیں ہتھیار ڈالنے ہی پڑیں گے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نئی خفیہ معلومات کے مطابق ایران جوہری ہتھیار بنانے کے ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں، اسی وجہ سے فوجی کارروائی ضروری ہو گئی تھی۔
تاہم امریکی انٹیلیجنس رپورٹس سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ امریکا کی تجزیاتی رائے میں حالیہ دنوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اس میں اب بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2003 میں بند کیے گئے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کی دوبارہ منظوری نہیں دی۔
سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ جمعے کی صبح اپنی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کر رہے تھے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی ایران کی درخواست پر جمعے کو اجلاس منعقد کرنے جا رہی ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام اتوار کو عمان میں ایران کے بڑھتے ہوئے یورینیم افزودگی پروگرام پر چھٹے دور کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔