پاکستان نے مجموعی طور پر استحکام کی علامات ظاہر کردی ہیں، جس کی پشت پر بہتر مالی کارکردگی، مستحکم بیرونی کھاتہ، اور کم ہوتی ہوئی مہنگائی موجود ہے۔ محصولات میں بہتری اور محدود سرکاری اخراجات نے مالی خسارے کو کم کرنے اور پرائمری بیلنس کو سرپلس بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس بڑھا ہے، جو ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، اور شرح مبادلہ مارکیٹ کے مطابق مستحکم رہی ہے۔ مہنگائی کم ہو کر اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے آنے والے مہینوں میں زیادہ معاون مالیاتی پالیسی کے لیے گنجائش پیدا ہو گئی ہے۔

اگرچہ مجموعی صنعتی سرگرمی کمزور رہی، تاہم آٹوموبائل اور برآمدی شعبوں سے منسلک ذیلی صنعتوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سوشل پروٹیکشن اور ماحولیاتی مالیات کے اقدامات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، جو شمولیتی اور پائیدار ترقی کے راستے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

مالی سال 26-2025 کا بجٹ، جو 10 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا، اہم اصلاحات، معاشی بحالی، اور مالی نظم و ضبط کے نئے عزم کے تناظر میں ترتیب دیا جا رہا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے اسلام آباد اسٹاف مشن کے اختتام پر، جس کی قیادت ناتھن پورٹر نے کی، بجٹ کی تیاری اور وسیع تر معاشی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے رہنمائی فراہم کی ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کے وفاقی اور صوبائی حکام کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات اور تفصیلی مشاورت میں حصہ لیا، اور نئے مالیاتی فریم ورک، میکرو اکنامک اہداف، اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے خدوخال واضح کیے۔آئی ایم ایف مشن نے اطمینان بخش پیش رفت کو تسلیم کیا اور 7 ارب ڈالر مالیت کے 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلنس اینڈ سسٹین ابلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) پروگرامز کے تحت سخت شرائط طے کیں۔

ای ایف ایف پروگرام کا بنیادی ہدف مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے مساوی بنیادی سرپلس حاصل کرنا ہے، جو مضبوط محصولات کے حصول اور ترجیحی اخراجات کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔ اس میں ٹیکس کی تعمیل بہتر بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، اور مالی اخراجات میں بہتر اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ اس مشن کے دوران طے پانے والا اسٹریٹجک فریم ورک اب پاکستان کے آئندہ بجٹ کی تشکیل کا مرکز بن چکا ہے، جو معاشی بحالی اور بین الاقوامی اعتماد کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

آئی ایم ایف کی تجاویز میں محصولات کے حصول پر مرکوز رہتے ہوئے شمولیتی ترقی کو متاثر نہ کرنے کی تاکید کی گئی۔ پالیسی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر زور دیا گیا تاکہ موجودہ محدود اور بوجھل نظام کو تبدیل کر کے زیادہ منصفانہ اور ترقی دوست نظام قائم کیا جا سکے۔

پاکستانی حکام کو غیر ہدف شدہ سبسڈیز محدود کرنے، فضول اخراجات کو روکنے، اور مستحقین کے لیے مؤثر سوشل پروٹیکشن یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی واضح کیا کہ مستحکم میکرو اکنامک پالیسیز — بشمول سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی — کو اپنانا لازمی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا مہنگائی کو کم سے کم سطح پر رکھنے کا ہدف سراہا گیا، اور لچکدار شرح مبادلہ کو بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

توانائی کے شعبے کی اصلاحات بھی نمایاں طور پر زیر بحث آئیں، جن میں ٹیرف اسٹرکچر کی خامیوں کو دور کرنا، نظامی نقصانات کو کم کرنا، اور لاگت کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین شامل ہے۔ مالیاتی فریم ورک کا مقصد نہ صرف قرضوں کی پائیداری کے اہداف حاصل کرنا ہے بلکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی پالیسیز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا بھی ہے، تاکہ طویل مدتی معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

آئی ایم ایف کی اصلاحاتی تجاویز اور پاکستان کے اقتصادی اعداد و شمار کا باہمی تجزیہ بتاتا ہے کہ اگرچہ پیش رفت ہوئی ہے، مگر ڈھانچہ جاتی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ”اپریل 2025 اکنامک اپڈیٹ“ ان پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ میکرو اکنامک اشاریے بہتری کے آثار ظاہر کرتے ہیں۔ بہتر محصولات، مہنگائی میں کمی، اور کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معیشت اب بحران سے نکل کر بتدریج بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔

مالی سال 2025 کے جولائی تا فروری کے دوران مالی خسارہ جی ڈی پی کا 2.2 فیصد رہا، جبکہ بنیادی سرپلس جی ڈی پی کا 3 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو محتاط مالی نظم و ضبط کا مظہر ہے۔ محصولات میں سالانہ 43.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ نان ٹیکس ریونیو میں 73 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی تا مارچ مالی سال 2025 کے دوران ریفنڈز روک کر اور قبل از وقت ایڈوانسز شامل کرتے ہوئے 8.45 کھرب روپے اکٹھے کیے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 25.9 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ بہتری ایسی مالی گنجائش فراہم کرتی ہے جسے منصوبہ بندی کے تحت پیداواری اخراجات پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔

مالیاتی شعبہ محتاط انداز میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔ مارچ 2024 میں مہنگائی کی شرح 20.7 فیصد تھی، جو مارچ 2025 میں سالانہ کم ہو کر محض 0.7 فیصد رہ گئی، جو کہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح ہے۔ مہنگائی میں اس نمایاں کمی نے مالیاتی پالیسی میں نرمی کی گنجائش پیدا کی ہے، جس سے ممکنہ طور پر سودی بوجھ میں کمی آئے گی اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اپریل 2025 تک بڑھ کر 10.6 ارب امریکی ڈالر ہو گئے، جس سے ملک کے کل ذخائر 15.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ کرنٹ اکائونٹ میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو برآمدات کی بحالی اور ریکارڈ 28 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر سے ممکن ہوا۔ یہ اعداد و شمار بیرونی ادائیگیوں میں توازن کی بحالی اور بیرونی قرضوں پر انحصار میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

صنعتی شعبہ ایک ملی جلی تصویر پیش کرتا ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2025 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار (ایل ایس ایم) میں 1.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، ٹیکسٹائل، ملبوسات اور پیٹرولیم مصنوعات جیسے ذیلی شعبہ جات نے مزاحمتی رویہ دکھایا۔

آٹوموبائل سیکٹر میں پیداوار کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھی گئی، جو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مخصوص صنعتی شعبہ جات میں بحالی کا عمل جاری ہے۔ کمزور مقامی طلب کے باوجود سیمنٹ کی برآمدات میں 28.1 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شعبہ جاتی رجحانات اس امر پر زور دیتے ہیں کہ صنعتی بحالی کے لیے ہدفی مراعات اور مستحکم توانائی کی فراہمی نہایت اہم ہے۔

زرعی شعبہ، جسے اکثر مالیاتی ترجیحات میں نظر انداز کیا جاتا ہے، ربیع سیزن کے دوران اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا نظر آیا۔ گندم کی کاشت 2 کروڑ 20 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کی گئی، جس کی پیداوار کا تخمینہ 2 کروڑ 79 لاکھ ٹن لگایا گیا۔ زرعی قرضوں کی فراہمی میں 15.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ زرعی مشینری کی درآمدات میں 40.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

زرعی شعبے میں یہ رجحانات میکانائزیشن اور زرعی ان پٹ تک رسائی میں بہتری کی ابتدائی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں، جو دیہی پیداوار میں اضافے کے لیے سرکاری سرمایہ کاری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس اپڈیٹ کے اعداد و شمار آئی ایم ایف کی اس تجویز کی بھی تائید کرتے ہیں کہ زرعی ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، جو کہ سیاسی طور پر حساس مگر اقتصادی لحاظ سے ضروری اصلاح ہے۔

بیرونی شعبے کی کارکردگی اعتماد کو بڑھا دیتی ہے۔ برآمدات 7.7 فیصد بڑھ کر 24.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن کی قیادت گارمنٹس اور ٹیکسٹائل نے کی، جبکہ آئی ٹی برآمدات 23.7 فیصد بڑھ کر 2.8 ارب ڈالر ہو گئیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے اہم ممالک سے ترسیلاتِ زر میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 14 فیصد بڑھ کر 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کا زیادہ تر حصہ مالیاتی خدمات، توانائی، اور تیل و گیس کے شعبوں میں آیا۔

مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج انڈیکس مارچ میں 117,000 پوائنٹس سے تجاوز کر گیا۔ یہ رجحانات معاشی استحکام اور پالیسیوں میں پیش گوئی کے باعث مارکیٹ کے اعتماد میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے اعتماد کی بحالی پر آئی ایم ایف کا زور ان پیش رفتوں سے جزوی طور پر درست ثابت ہوتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں عدم کارکردگی سے متعلق آئی ایم ایف کی تشویش بجا ہے۔ بجلی پیدا کرنے کی بلند لاگت، ترسیلی نقصانات، اور گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم نے طویل عرصے سے ملکی مسابقت کو متاثر کیا ہے۔ بجٹ میں ٹیرف میں اصلاحات، کراس سبسڈیز کے خاتمے، اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی حکمرانی میں بہتری کا روڈمیپ شامل کیا جانا ضروری ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو قیمتوں سے آگے بڑھا کر بجلی کی چوری، بلنگ کی عدم شفافیت، اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔ قیمتوں کی وصولی کی بنیاد پر نرخوں کا تعین اور لیویز سے متعلق قانون سازی اس بجٹ سائیکل میں لاگو کی جانی چاہیے۔

سوشل پروٹیکشن سسٹم کی مزاحمتی صلاحیت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ حکومت نے جولائی تا فروری مالی سال 2025 کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت 347 ارب روپے خرچ کیے، جو گزشتہ سال کی نسبت 82.6 فیصد زیادہ ہے، اور یہ کمزور طبقوں کو تحفظ فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو آئی ایم ایف کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ کفالت پروگرام کے تحت مہنگائی سے منسلک منتقلیوں کا تسلسل بجٹ کے فریم ورک میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فلاحی نظام میں ڈیجیٹل ٹولز کے انضمام کو مزید وسعت دی جانی چاہیے تاکہ ہدف بندی اور شفافیت میں بہتری لائی جا سکے۔

اب بجٹ کو ان پالیسی خطوط اور معاشی اشاروں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ ترجیح ہونی چاہیے کہ ٹیکس نیٹ کو ڈیجیٹلائزیشن اور نفاذ کے ذریعے وسیع کیا جائے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل انوائسنگ، ادارہ جاتی ڈیٹا شیئرنگ، اور مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر رسک پروفائلنگ کو سختی سے نافذ کرے تاکہ ٹیکس کمپلائنس میں بہتری لائی جا سکے۔۔۔ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زراعت کے بڑے غیر دستاویزی شعبوں کو لازماً ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے۔ ٹیکس کے طریقۂ کار کو آسان بنانے، قانونی چارہ جوئی میں کمی اور ریفنڈ کے نظام کو خودکار بنانے سے ٹیکس ادائیگی میں بہتری آئے گی اور مزاحمت کم ہوگی۔

دوسری ترجیح تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا ہونی چاہیے۔ مہنگائی نے حقیقی آمدن کو کم کر دیا ہے، اور ریلیف کو ٹیکس سلیبز میں اوپر کی طرف نظرثانی اور انڈیکسیشن کے نفاذ کے ذریعے فراہم کیا جانا چاہیے۔ ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کے نظام کو اس انداز میں ہموار کیا جانا چاہیے کہ زائد وصولیوں اور ریفنڈ میں تاخیر سے بچا جا سکے۔

بالواسطہ ٹیکسوں، جیسا کہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، کا بوجھ محدود آمدن والے گھرانوں پر غیر متناسب طور پر پڑتا ہے۔ بنیادی اشیاء اور یوٹیلیٹیز پر سیلز ٹیکس کی شرحوں میں کمی پر غور کیا جانا چاہیے۔ غیر ٹیکس آمدن اور ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری سے حاصل ہونے والی مالی گنجائش ہدفی ٹیکس ریلیف کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

تیسری ترجیح توانائی کے شعبے میں اصلاحات ہونی چاہیے۔ بجٹ میں ٹیرف ری بیسنگ، سبسڈی میں کمی، اور گرڈ انفرا اسٹرکچر کی جدید کاری کے لیے ٹائم لائن کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ اسمارٹ میٹرنگ اور شمسی توانائی کے انضمام میں سرمایہ کاری کو وسعت دی جانی چاہیے تاکہ تکنیکی نقصانات میں کمی آئے۔

پیٹرولیم لیوی کے استعمال کو توانائی کے شعبے میں انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری سے منسلک کیا جانا چاہیے، نہ کہ عمومی سرکاری آمدن کی ضروریات سے۔ توانائی کے شعبے میں موجود ساختی رکاوٹیں براہ راست صنعتی مسابقت کو متاثر کرتی ہیں، جنہیں ایک جامع حکمتِ عملی کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔

چوتھی ترجیح عوامی ترقیاتی اخراجات اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کو بڑھانا ہونی چاہیے۔ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو اُن منصوبوں کو ترجیح دینی چاہیے جو زیادہ منافع بخش ہوں اور روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، بالخصوص ٹرانسپورٹ، رہائش اور دیہی روابط کے شعبوں میں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے انفرا اسٹرکچر میں نجی شعبے کی شرکت کو مالیاتی ضمانتوں اور ٹیکس ریلیف کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو قرض کی فراہمی کے لیے سود پر سبسڈی اور ضمانتی اسکیموں کے ذریعے معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ حکومت کو ٹیکنالوجی پارکس، برآمدی کلسٹرز اور ہنر کی تربیت کے لیے فنڈز مختص کرنے چاہییں تاکہ روزگار کے مواقع اور مسابقت میں بہتری آئے۔

پانچویں ترجیح بیرونی سطح پر معاشی مزاحمت کو مستحکم بنانا ہونی چاہیے۔ بجٹ میں برآمدات میں تنوع کے لیے شعبہ جاتی مراعات اور برآمدی طریقہ کار کی آسانی کو ہدف بنایا جانا چاہیے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ترسیلاتِ زر کو رسمی چینلز کے ذریعے محفوظ رکھنے کے لیے پرکشش بچت اسکیمیں متعارف کروائی جانی چاہییں۔

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے لیے مراعات میں ٹیکس چھوٹ، معاہدوں کے نفاذ کی ضمانتیں، اور منافع کی ترسیل میں آسانی شامل ہونی چاہیے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کو بیرونی سرمایہ کاروں کی سرگرم رہنمائی اور سہولت کاری کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔

چھٹی ترجیح ادارہ جاتی اصلاحات ہونی چاہییں۔ بجٹ میں زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے، نادرا کو اقتصادی ڈیٹا بیسز سے جوڑنے، اور ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے فنڈز مختص کیے جانے چاہییں۔ انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو سرکاری اخراجات میں شفافیت اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے وسائل دیے جائیں۔ گورننس تشخیص پر آئی ایم ایف کا اصرار بجٹ اقدامات میں ڈھلنا چاہیے، تاکہ اداروں کو مضبوط کیا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔

مالی سال 26-2025 کے لیے بجٹ کو محض ایک مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ سیاسی ارادے اور انتظامی صلاحیت کا امتحان ہونا چاہیے۔ آئی ایم ایف کا اعتماد، جوای ایف ایف کے پہلے جائزے کی تکمیل اور آر ایس ایف کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے، اصلاحات کے لیے ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔

معاشی اعداد و شمار امید دلاتے ہیں، لیکن استحکام سے ترقی کی جانب منتقلی کے لیے مسلسل کوشش درکار ہے۔ عوام حقیقی ریلیف کی توقع رکھتے ہیں، مارکیٹ وضاحت چاہتی ہے، اور بین الاقوامی برادری اصلاحات کی منتظر ہے۔ بجٹ کو ان تینوں توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔

حکومت کے پاس اس بجٹ کو تبدیلی کے پلیٹ فارم میں ڈھالنے کا موقع ہے۔ ترجیحات کی وضاحت، عالمی اداروں سے ہم آہنگی، اور مقامی ضروریات کے لیے ردعمل مل کر ایک پائیدار معاشی راہ کا تعین کر سکتے ہیں۔ تدریجی اقدامات کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب جس لمحے کا تقاضا ہے، وہ ہے جرات، نظم و ضبط اور عمل۔ پاکستان کی معیشت کا مستقبل ممکن ہے کہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے صفحات میں لکھا جا رہا ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025