امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایسے غیر ملکیوں پر ویزا پابندیاں عائد کرے گا جنہیں امریکیوں کی آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے والا سمجھا جائے گا۔ روبیو کے بقول یہ پالیسی خاص طور پر ان حکام کو نشانہ بنا سکتی ہے جو امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ ویزا پابندیاں ان غیر ملکیوں پر لاگو ہوں گی جو امریکہ میں محفوظ شدہ اظہار رائے پر سنسرشپ کی ذمہ داری رکھتے ہیں اور یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ کوئی غیر ملکی حکام امریکی سرزمین پر کیے گئے سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے گرفتار کرنے کی دھمکی دیں یا وارنٹ جاری کریں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسی طرح یہ بھی ناقابل قبول ہے کہ غیر ملکی حکام امریکی ٹیک کمپنیوں سے عالمی مواد کی نگرانی کی پالیسیاں اپنانے یا ایسی سنسرشپ کرنے کا مطالبہ کریں جو ان کے اختیار سے باہر ہو اور امریکہ تک پھیلے۔
مارکو روبیو کے بیان میں کسی مخصوص ملک یا شخص کا نام نہیں لیا گیا، لیکن انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض غیر ملکی حکام نے بے باک سنسرشپ کے اقدامات کیے ہیں جو امریکی ٹیک کمپنیوں اور امریکی شہریوں و رہائشیوں کے خلاف کیے گئے، حالانکہ ان کے پاس ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔