غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز فلسطینی علاقے کے مختلف حصوں میں مزید 15 افراد شہید ہو گئے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔

سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے اے ایف پی کو بتایا کہ شہداء میں میاں بیوی اور ان کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں، جو جنوبی شہر خان یونس کے علاقے امَل کوارٹرز میں علی الصبح ایک گھر پر کئے گئے حملے میں شہید ہوگئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شہر کے مغربی علاقے میں امدادی ٹرکوں کا انتظار کرنے والے افراد کے ہجوم پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد شہید ہوگئے۔

خان یونس کے ناصر اسپتال کے باہر کفن میں لپٹے شہداء کے جنازوں کے گرد سوگوار رشتہ دار اشک بار نظر آئے۔

وسام المدہون نے کہا کہ اچانک ایف-16 سے داغا گیا میزائل پورے گھر کو تباہ کر گیا اور یہ سب کے سب عام شہری تھے، میری بہن، اس کا شوہر اور ان کے بچے شہید ہوگئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ان کی لاشیں سڑک پر پڑی ہوئیں دیکھیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس بچے نے (اسرائیلی وزیرِ اعظم) نیتن یاہو کا کیا بگاڑا تھا؟

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ انفرادی حملوں پر تبصرہ نہیں کر سکتی جب تک کہ انہیں ان کے عین جغرافیائی نقاط نہ فراہم کیے جائیں۔

ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے بتایا کہ گزشتہ روز کے دوران فضائیہ نے فلسطینی علاقے کے مختلف حصوں میں 100 سے زائد اہداف پر حملے کیے، جن میں غزہ پٹی میں دہشت گرد تنظیموں کے ارکان، فوجی تنصیبات، زیرِ زمین راستے اور دہشت گردی کے دیگر بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں کارروائیاں دوبارہ شروع کیں، جس سے دو ماہ کے جنگ بندی معاہدے کا خاتمہ ہو گیا۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے ہفتے کو بتایا ہے کہ اس وقت تک اس علاقے میں کم از کم 3,747 افراد شہید ہو چکے ہیں، جس کے باعث اس جنگ میں مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 53,901 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

ظالمانہ ترین مرحلہ

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹریس نے جمعہ کو کہا ہے کہ فلسطینی غزہ میں جنگ کے ظالمانہ ترین مرحلے سے گزر رہے ہیں، جہاں طویل عرصے سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث خوراک اور دواؤں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

غزہ پٹی میں امدادی سامان کی محدود فراہمی پیر کو2 مارچ کے بعد پہلی بار دوبارہ شروع ہوئی، اس دوران اسرائیلی ناکہ بندی کی شدید مذمت بھی کی جا رہی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ اس کے 15 امدادی ٹرک جمعرات کی رات دیر گئے لوٹ لیے گئے اور اس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں خوراک کی فراہمی کی مقدار کو بہت تیز رفتاری سے بڑھایا جائے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بھوک، مایوسی اور خوراک کی مزید امداد کے آنے کے حوالے سے بے چینی بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے۔

دوسری جانب غزہ سٹی میونسپلٹی نے ہفتے کو ممکنہ وسیع پیمانے پر پانی کے بحران کی وارننگ دی ہے کیونکہ ہنگامی مرمت کے لیے ضروری وسائل کی کمی ہے۔

میونسپلٹی نے کہا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں غزہ کے زیادہ تر پانی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے آبادی کے بڑے حصے شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور توقع ہے کہ پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوگا۔