واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا کو وطن واپسی پر تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقی عوام اور تجزیہ کاروں نے ٹرمپ کی جانب سے ”سفید فام نسل کشی“ کے جھوٹے دعووں پر بات چیت کو ملاقات کا مرکزی موضوع بنانے پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سیرل رامافوسا کی خواہش تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیاد فراہم کریں، لیکن ٹرمپ نے ملاقات کا بیشتر وقت جنوبی افریقہ میں سفید فام کسانوں کے خلاف تشدد اور زمین کی ضبطی کے بے بنیاد الزامات پر صرف کیا۔ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مضامین اور ویڈیوز دکھا کر اپنے دعوئوں کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اعداد و شمار ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔
رامافوسا نے ملاقات کے دوران تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن کئی جنوبی افریقی شہریوں کا ماننا ہے کہ یہ دورہ وقت کا ضیاع تھا۔ ایک مزدور یونین کے رکن نے کہا، ہمیں امریکہ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سفید فام نسل کشی نہیں ہو رہی۔
جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے رامافوسا کے رویے کا دفاع کیا اور کہا کہ صدر ہمیشہ تحمل سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سفید فام کسانوں کی قتل و غارت گری کا تصور زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ خود افریقنز کے ایک یونین ٹی ایل یو -ایس اے کے مطابق 1990 سے اب تک 1,363 سفید فام کسان قتل ہوئے، جو ملک میں سالانہ 20 ہزار قتل کی وارداتوں کے مقابلے میں نہایت کم شرح ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی دائیں بازو گروپوں نے سفید فام مظلومیت کا بیانیہ برسوں سے امریکی سیاسی منظرنامے میں پھیلایا ہے، جس کا اثر ٹرمپ اور ان کے حامیوں پر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔