دنیا

بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے آدھے سے زائد سیاحتی مقامات کو بند کر دیا

  • مقبوضہ کشمیر میں 87 میں سے 48 سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ ہفتے سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد سیکیورٹی سخت کرنے کی غرض سے منگل کے روز سے نصف سے زائد سیاحتی مقامات کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق کیا گیا ہے جسے رائٹرز نے دیکھا۔

پولیس کے مطابق، پہلگام میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 26 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے، جسے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں سیاحوں پر بدترین حملہ قرار دیا گیا ہے۔

بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، جب کہ اسلام آباد نے اس میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کرتے ہوئے ایک غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی صرف اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے۔

اس حملے کے بعد دونوں جوہری قوتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور بھارت کے اندر پاکستان کے خلاف کارروائی کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں۔

بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے، جو دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق اہم معاہدہ ہے، جب کہ پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔

ریاستی حکم نامے کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں 87 میں سے 48 سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا ہے اور باقی پر سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان پابندیوں کے لیے کوئی مدت نہیں دی گئی۔

پہلگام حملے کے بعد خوف زدہ سیاحوں نے موسمِ گرما کی مصروف سیاحتی سیزن کے آغاز میں ہی واپسی کا رخ کر لیا ہے۔

مزید برآں، پاکستان اور بھارت کے درمیان 740 کلومیٹر طویل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

بھارتی فوج نے منگل کو مسلسل پانچویں دن دعویٰ کیا کہ اسے آدھی رات کے قریب پاکستانی چوکیوں سے ”بلا اشتعال“ چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات یا کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

پاکستانی فوج نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پیر کے روز رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے فوجی کارروائی کا خطرہ موجود ہے اور اس خدشے کے پیشِ نظر پاکستانی افواج کو چوکس کر دیا گیا ہے۔