ورلڈ بینک کے صدر نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ فوری طور پر تجارتی معاہدے کریں۔ یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی رہنماؤں کے ساتھ مصروف ہفتے کے بعد اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
اجے بانگا نے اے ایف پی کو ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سالانہ بہار اجلاسوں کے دوران انٹرویو دیا، جو اس سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وقفے وقفے سے نافذ کی جانے والی ٹیرف پالیسیوں کے باعث غیر یقینی صورتحال کے سائے میں منعقد ہوئے۔
بانگا نے کہا کہ بینک ترقی پذیر ممالک کو مشورہ دے رہا ہے کہ وہ جلد از جلد امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ مکمل کریں اور اس کے بعد اپنی توجہ تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے اور خطے میں اشیاء کے بہاؤ کو فروغ دینے پر مرکوز کریں۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو امریکہ کے ساتھ تجارتی نظام جلد از جلد طے کرنا ہوگا، اگر آپ تاخیر کریں گے تو یہ سب کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
ٹرمپ ٹیرف نے مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، غیریقینی میں اضافہ کیا ہے اور سرمایہ کاروں و صارفین کو خوفزدہ کردیا ہے۔
جنوری میں دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی صدر نے زیادہ تر ممالک پر 10 فیصد کا بنیادی ٹیرف عائد کیا ہے جبکہ چین پر اس سے کہیں زیادہ بھاری محصولات لگائی گئی ہیں اور ان شعبوں پر 25 فیصد تک کے مخصوص ٹیرف لاگو کیے گئے ہیں جن میں اسٹیل، ایلومینیم اور وہ گاڑیاں شامل ہیں جو امریکہ میں تیار نہیں ہوتیں۔
انہوں نے درجنوں ممالک پر امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارتی توازن رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر بہت زیادہ محصولات عائد کیے جنہیں عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
بیسنٹ کا چین سے متعلق مؤقف غلط نہیں
بانگا نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے عالمی بینک پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے حوالے سے بیسنٹ کے مؤقف کو غلط نہیں سمجھتے۔
بیسنٹ نے چین کے غیر معقول ترقی پذیر ملک کے درجے پر تنقید کی تھی اور بانگا اور آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جورجیوا پر زور دیا تھا کہ وہ امریکی حکومت کا اعتماد حاصل کریں۔
چین کے بارے میں بیسنٹ کے تبصرے کے بارے میں بانگا نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ غلط ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین جیسے ملک جس کی اتنی بڑی معیشت اور صلاحیت ہے، آئی بی آر ڈی سے مزید پیسہ نہیں لے رہا ہونا چاہیے۔ انہوں نے آئی بی آر ڈی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو زیادہ تر درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو قرض فراہم کرتا ہے۔
ایسی کسی بھی تبدیلی کے لیے عالمی بینک کے ایگزیکٹو بورڈ کی حمایت درکار ہوگی جو ممبر ممالک پر مشتمل ہے۔
بانگا کے مطابق چین نے پچھلے سال آئی بی آر ڈی سے تقریباً 750 ملین ڈالر قرض لیا،جبکہ اس ادارے کو اربوں ڈالر قرضوں کی ادائیگی اور عطیات کی صورت میں واپس کیے۔
انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ میں نے اس کو 750 ملین ڈالر تک کم کردیا ہے اور اب میں چین کے ساتھ بات کرنے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ اسے مزید کم کیا جا سکے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ کام مکمل ہو جائے اور یہی بات میں چینی حکام سے کر رہا ہوں۔
بانگا نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ورلڈ بینک پر کی جانے والی تنقید جس میں پالیسی کی حد سے تجاوز شامل تھا غیر معمولی نہیں تھی اور انہوں نے فرانس، جاپان اور کوریا جیسے ممالک میں حالیہ منتخب حکومتوں کی مثال دی۔
انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کو ہمیشہ بتاتا ہوں کہ یہ ایک بالکل تعمیری درخواست ہے کہ مجھے بتائیں اور دکھائیں کہ آپ وہ لوگ ہیں جو میرے ٹیکس دہندگان کے مفادات اور میرے ملک کے مفادات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اسے اسی جذبے کے ساتھ لیتا ہوں، اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔
کم سے کم ممکنہ قیمت پر توانائی
2023 میں واشنگٹن میں قائم ترقیاتی قرض دہندہ کی سربراہی سنبھالنے کے بعد سے، بانگا نے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور بجلی کی کنیکٹیوٹی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، آپریشنز کو ہموار کرنے اور نجی شعبے کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا ہے۔
بینک کی موجودہ ترجیحات میں افریقی ترقیاتی بینک کے ساتھ 2030 تک سب صحارا افریقہ کے 300 ملین افراد کو بجلی سے منسلک کرنے پر زور دینا شامل ہے - ایک ایسا عمل جس کے لئے بڑی مقدار میں نئی توانائی آن لائن لانے کی ضرورت ہوگی۔
بناگا نے کہا کہ آپ کو بہترین، قابل رسائی طریقے اور کم سے کم ممکنہ لاگت میں (توانائی) حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
بانگا نے کہا کہ بینک کا ایگزیکٹو بورڈ جون میں اپنی توانائی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینک ترقی پذیر ممالک میں نجی شعبے میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی زور دے رہا ہے ۔