مقبوضہ جموں و کشمیر میں منگل کے روز سیاحوں پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ بات 3 سیکورٹی ذرائع نے روئٹرز کو بتائی ہے۔

یہ حملہ خوبصورت پہاڑی علاقے پہلگام میں ہوا ہے جو سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔ اس علاقے میں موسم سرما کے دوران سیاحت عروج پر ہوتی ہے۔

ایک سکیورٹی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 20 بتائی ہے، جبکہ دوسرے نے 24 اور تیسرے نے 26 بتائی ہیں۔ تینوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

ایک عینی شاہد نے اپنا نام بتائے بغیر نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ فائرنگ ہمارے سامنے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لگا کہ کوئی پٹاخے پھوڑ رہا ہے لیکن جب ہم نے دوسرے لوگوں (چیخنے) کی آواز سنی تو ہم جلدی سے وہاں سے نکل گئے، اپنی جان بچائی اور بھاگ گئے۔

ایک اور عینی شاہد نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ میں کانپ رہا ہوں، ہم چار کلو میٹر تک نہیں رکے۔

اخبار انڈین ایکسپریس نے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ حملہ سڑک سے ہٹ کر ایک چراگاہ میں ہوا ہے اور اس میں دو یا تین مسلح افراد ملوث تھے۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ہلاکتوں کی تعداد کا ابھی پتہ لگایا جا رہا ہے، اس لیے میں ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔