حماس نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی نژاد امریکی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر کی قسمت کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے جبکہ اس کی نگرانی پر مامورمحافظ کی لاش حالیہ اسرائیلی حملے کے مقام سے ملی ہے۔
حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم ایک شہید کی لاش نکالنے میں کامیاب رہے جسے قیدی ایڈن الیگزینڈر کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن اس قیدی اور باقی مغویوں کی قسمت کچھ نہیں معلوم۔
منگل کے روز اس گروپ نے اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد الیگزینڈر کو پکڑنے والے لڑاکا یونٹ سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سفاکیت پر مبنی جارحیت کے باوجود تمام قیدیوں (یرغمالیوں) کو بچانے اور ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حماس ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ دشمن فوج کی مجرمانہ بمباری کی کارروائیوں کی وجہ سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔
گزشتہ ہفتے بریگیڈ ز نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں الیکزینڈر کو زندہ دکھایا گیا تھا جس میں اس نے اپنی رہائی میں ناکامی پر اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ویڈیو میں الیگزینڈر وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بار بار ہاتھ کے اشارے کرتے ہوئے دباؤ میں بولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
اے ایف پی اس بات کا تعین کرنے سے قاصر ہے کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی تھی۔
الیگزینڈر غزہ کی سرحد پر ایلیٹ انفنٹری یونٹ میں ایک فوجی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا تھا جب انہیں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران فلسطینی جنگجوؤں نے اغوا کر لیا تھا۔
21 سالہ فوجی تل ابیب میں پیدا ہوا اور امریکی ریاست نیو جرسی میں پرورش پائی اور ہائی اسکول کے بعد فوج میں شامل ہونے کے لیے اسرائیل واپس آیا۔
7 اکتوبر کو اغوا کیے گئے 251 یرغمالیوں میں سے 58 ابھی بھی قید میں ہیں، جن میں سے 34 اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں اپنے شدید فضائی حملے اور زمینی حملے دوبارہ شروع کیے، جس سے دو ماہ سے جاری جنگ بندی کا خاتمہ ہوا جس نے لڑائی کو بڑی حد تک روک دیا تھا۔
حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 1783 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں جنگ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل کی جانب سے 1،281 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔
وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں غزہ میں کم از کم 51,157 افراد شہید ہو چکے ہیں، ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتی ہے۔