پاکستان کا سرمایہ کاری ماحول ایک پیچیدہ اور اکثر متضاد صورتحال سے گزرتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چینگ پینگ ژاؤ (جسے سی زیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے) کو پاکستان کرپٹو کونسل کا مشیر مقرر کیا گیا ہے، جو مختلف دائرہ اختیار میں جاری ریگولیٹری تحقیقات کی وجہ سے ایک متنازعہ شخصیت ہیں، اس فیصلے نے پاکستان کی ریگولیٹری پیش بینی پر تشویشناک سوالات اٹھائے ہیں۔
ایک ایسے فرد کو پاکستان کے ابتدائی کرپٹو ایکو سسٹم میں شامل کرنے کا فیصلہ، جو عالمی سطح پر ریگولیٹری عدم تعمیل سے جڑا ہوا ہے، ہمارے نئے ٹیکنالوجیز کے حوالے سے نقطہ نظر میں نظامی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اس تقرری کے ممکنہ اثرات اہم ہیں کیونکہ کرپٹو ایکو سسٹم عالمی سطح پر سب سے سخت ریگولیٹری نگرانی کے تحت کام کرتا ہے، خاص طور پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف)، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور امریکی وزارت خزانہ جیسے اداروں کے تحت۔
سی زیڈ جیسے فرد کی شمولیت پاکستان کو فیٹف کے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کاؤنٹر ٹیررزم فنانسنگ (سی ایف ٹی) فریم ورک کے تحت اضافی نگرانی کا سامنا کروا سکتی ہے۔ یہ خطرہ اس بات سے مزید بڑھ جاتا ہے کہ پاکستان حالیہ تاریخ میں فیٹف کے گرے لسٹ میں شامل رہا ہے۔ اگر ڈیجیٹل اثاثوں کی آمدورفت کو مناسب طریقے سے ریگولیٹ نہ کیا گیا تو یہ ہمارے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ موجودہ تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
سرمایہ کاری کا ماحول مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے جب حکومت کی حالیہ خواہشات کو پاکستان معدنیات سرمایہ کاری فورم 2025 میں پیش کیا گیا۔ وزیر اعظم کا یہ بیان کہ پاکستان کے پاس ٹریلین ڈالرز کے معدنی وسائل ہیں اور یہ ذخائر ملک کو آئی ایم ایف کے قرضوں سے آزاد کر سکتے ہیں، ایک حوصلہ افزا تصور پیش کرتا ہے مگر اس بیان میں وہ گہرے ساختی رکاوٹیں شامل نہیں جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو معدنی شعبے میں روک رہی ہیں۔
حکومت کا معدنی وسائل کی ترقی کے لیے طویل عرصے سے عزم رہا ہے، مگر عمل درآمد میں اب بھی وسیع فرق موجود ہے۔نیشنل منرلز ہارمونائزیشن فریم ورک 2025 کا اعلان پالیسی سطح کی سرگرمی کو ظاہر کرتا ہے لیکن پالیسی کو متوقع اور مستحکم آپریشنل میکنزمز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ابھی تک مشکوک ہے۔
حکومت کی یہ توقع کہ معدنی ترقی یکطرفہ طور پر آئی ایم ایف پر انحصار کو ختم کر سکتی ہے، غیر حقیقت پسندانہ ہے، خاص طور پر ملک کی معیشت کو درپیش دائمی مسائل کے پیش نظرایسا ہونا ممکن نہیں۔ وزارت اقتصادی امور کی فروری 2025 کی ماہانہ رپورٹ برائے غیر ملکی اقتصادی امداد (ایف ای اے) پاکستان کی بیرونی مالی معاونت اور اس کے مختص کردہ پیٹرنز پر قیمتی بصیرت فراہم کرتی ہے جس میں بجٹ کی معاونت، پروجیکٹ فنانسنگ، تکنیکی معاونت، اور غیر ملکی کمرشل قرضوں کی مختلف اقسام شامل ہیں۔
جولائی 2024 سے فروری 2025 تک کا کل عارضی ادائیگی کا حجم 4,952.77 ملین ڈالر تھا، جو مالی سال 25-2024 کے لیے بجٹ میں تخمینہ 19,393.16 ملین ڈالر کے مقابلے میں صرف 25.5 فیصد تھا، جس سے پاکستان کے بیرونی امداد کے منصوبوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پروگرام اور بجٹ کی معاونت میں 1,173.76 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے غیر منصوبہ بند امداد پر زیادہ انحصار کر رہی ہے، بجائے اس کے کہ وہ بنیادی ڈھانچے یا ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز حاصل کرے۔
کثیر الجہتی ذرائع سے 2,198.49 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی ہیں، جبکہ دو طرفہ ذرائع سے صرف 133.71 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ دو طرفہ شراکت داروں سے محدود آمدنی پاکستان کے روایتی دوستانہ ممالک کے ساتھ اعتماد میں کمی کو اجاگر کرتی ہے، جو کبھی پاکستان کے غیر ملکی امداد کا ستون بنے تھے۔
کمرشل قرضوں کی قسم میں 3,779 ملین ڈالر کی ادائیگیاں ہوئی ہیں، جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مہنگے قرضوں کی حکومت کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتی ہیں۔ کمرشل قرضوں پر انحصار کرنے سے خاص طور پر غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ساکت برآمدات کے پس منظر میں سنگین قرض کی واپسی کے خطرات لاحق ہیں۔
اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کی قلیل مدتی مالیاتی سہولت نے 265.72 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں، جو تیل اور ایل این جی کی درآمد کے لیے اہم تھیں۔ اس سہولت پر بڑھتا ہوا انحصار پاکستان کی معیشت کے توانائی درآمدی انحصار کو اجاگر کرتا ہے۔
نیا پاکستان سرٹیفکیٹ (این پی سی) اسکیم نے اس عرصے میں 1,314.79 ملین ڈالر کا حصہ ڈالا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم افراد کی بچتوں اور خوردہ سرمایہ کاروں پر انحصار کر رہی ہے تاکہ بیرونی کھاتوں کے خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ اس طریقہ کار کی پائیداری مشکوک ہے، کیونکہ عالمی شرح سود میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بہتر متبادل ہوسکتے ہیں ۔
رپورٹ کے پروجیکٹ ادائیگی کے اعداد و شمار 2,198.49 ملین ڈالر ہیں، جو پورے سال کے لیے 3,406.95 ملین ڈالر کے بجٹ تخمینے کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہ کمی عمل درآمد میں رکاوٹیں، بیوروکریٹک مسائل اور پاکستان کے منصوبہ جاتی گورننس کے معیار کے بارے میں ممکنہ ڈونر کے عدم اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کئی شعبوں میں نمایاں شراکت دار کے طور پر موجود ہے۔
سندھ ہاؤسنگ فلڈ ری کنسٹرکشن پراجیکٹ کو 52.02 ملین امریکی ڈالر موصول ہوئے، جبکہ ڈومیسٹک ریسورس موبلائزیشن پروگرام کے تحت 300 ملین ڈالر کی وصولی ہوئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عطیہ دہندگان ایک طرف سیلاب کے بعد کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں، تو دوسری طرف وہ ایسے اصلاحاتی اقدامات میں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں جیسے کہ ملکی وسائل کو متحرک کرنا، جو پاکستان کے محدود ٹیکس دائرے پر ان کے تحفظات کو ظاہر کرتا ہے۔
ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے صرف 69.25 ملین ڈالر کی شراکت کی، جو کہ چین کے حمایت یافتہ اس قرض دہندہ سے پاکستان کی توقعات کے مقابلے میں معمولی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ یورپی انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) نے 10.53 ملین ڈالر جاری کیے، جو پاکستان کے مالی معاملات میں محتاط اور محدود شرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے آئی بی آر ڈی (آئی بی ڈی آر) اور آئی ڈی اے (آئی ڈی اے) ونڈوز کی جانب سے بالترتیب 217.82 ملین اور 642.50 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس امداد کا زیادہ تر حصہ منصوبہ جاتی نوعیت کا تھا، جس کا ارتکاز آبی وسائل کے انتظام، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور تعلیمی منصوبوں پر تھا۔ تکنیکی معاونت کی مد میں محض 8.84 ملین ڈالر کی ادائیگی کی گئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان اب بھی تکنیکی مہارتوں کی منتقلی یا صلاحیت سازی کے اقدامات کی بجائے قرضوں پر انحصار کرتا ہے۔
فروری 2025 کی رپورٹ سے ظاہر ہونے والا سب سے تشویشناک رجحان یہ ہے کہ پاکستان کا غیر ملکی کمرشل قرضوں پر انحصار بڑھ رہا ہے، جن کی مجموعی ادائیگی 3,779 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ منصوبہ جاتی ادائیگیوں سے کہیں زیادہ ہے۔
کمرشل قرضوں کی منڈیوں کی طرف بڑھتا ہوا رجحان، جہاں شرحِ سود زیادہ اور واپسی کی مدت قلیل ہوتی ہے، پاکستان کی قرض ادائیگی کی استعداد کو مزید غیر مستحکم کرتا ہے۔ بانڈز کے اجراء سے 1,000 ملین امریکی ڈالر حاصل کیے گئے، جو ایک بار پھر حکومتی مالی مشکلات کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ اعداد بتاتے ہیں کہ بین الاقوامی قرض منڈیاں تاحال دستیاب ہیں، مگر مہنگی شرائط کے ساتھ، جو مستقبل میں بجٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
دو طرفہ امداد کی تفصیلات کے مطابق اہم شراکت داروں سے معمولی مدد حاصل ہوئی۔ چین کی جانب سے صرف 2.41 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں، جو موجودہ عالمی اقتصادی دباؤ کے سبب پاکستان کو قرض دینے میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب کی امداد زیادہ تر وقتی ڈیپازٹس کی شکل میں رہی، نہ کہ بجٹ یا منصوبہ جاتی تعاون کی صورت میں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹریٹیجک شراکت داری کی حدود خالصتاً مالی لیکویڈیٹی تک محدود ہیں۔
منصوبوں کی تفصیلی جانچ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی امداد بنیادی طور پر چند مخصوص منصوبوں کے لیے گرانٹس تک محدود رہی، جیسے منگلا رِیفربشمنٹ اینڈ اپگریڈیشن پراجیکٹ (31.30 ملین ڈالر)، گومل زام ڈیم ڈیولپمنٹ (0.33 ملین ڈالر)، اور فاٹا انفراسٹرکچر پروگرام (6.73 ملین ڈالر)۔ امریکہ کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات کے باوجود، اتنی محدود امداد دونوں ممالک کے درمیان مالی تعاون میں دراڑ کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) ٹریڈ بینک کی طرف سے 100 ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی، جبکہ فرانس، ڈنمارک اور یورپی یونین کی طرف سے مختلف قرضے معمولی نوعیت کے رہے، جو زیادہ تر آبی انتظام یا انفراسٹرکچر منصوبوں سے متعلق تھے۔ ان معمولی شراکتوں نے پاکستان کی جغرافیائی و اقتصادی اہمیت کے باوجود دنیا میں اس کے معاشی مقام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تکنیکی معاونت کے لیے غیر ملکی امداد صرف 8.84 ملین امریکی ڈالر رہی، جو کہ انسانی سرمایہ کاری اور مہارت سازی کے لیے نہایت کم ہے۔ پاکستان میں گورننس کے دیرینہ مسائل تکنیکی مہارت اور انسانی وسائل کی بہتری کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مجموعی غیر ملکی اقتصادی امداد 4,952.77 ملین ڈالر میں سے 4,819.05 ملین ڈالر غیر منصوبہ جاتی امداد کی صورت میں حاصل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جو ترقی پر مبنی مالی فلو کے بجائے صرف مالیاتی کھپت پر مرکوز ہے۔
رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ منظور شدہ منصوبے موجود ہونے کے باوجود منصوبہ جاتی ادائیگیاں سست روی کا شکار رہیں۔ عمل درآمد میں تاخیر مستقبل کے ڈونرز اور سرمایہ کاروں کو منفی پیغام دیتی ہے، جو مؤثر فنڈ کے استعمال کے خواہاں ہوتے ہیں۔
چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ 5 (306.47 ملین ڈالر) اور ریکو ڈِک مائننگ پراجیکٹ جیسے توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں سے متعلق ادائیگیوں کا ڈیٹا رپورٹ میں شامل نہیں، جو یا تو آپریشنل تاخیر یا مالی معاہدوں کی عدم تکمیل کو ظاہر کرتا ہے۔
حکومت کی یہ بات کہ وہ معدنی وسائل کو استعمال میں لا کر آئی ایم ایف پر انحصار کم کرے گی، تبھی ممکن ہو گی جب وہ مستقل اور قابل اعتماد پالیسی فریم ورک، شفاف گورننس، اور ریگولیٹری رکاوٹوں کا خاتمہ یقینی بنائے جو غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
فروری 2025 کی ماہانہ رپورٹ پاکستان کی بیرونی مالیاتی کمزوریوں، غیر ترقیاتی قرضوں پر انحصار، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں ناکامی کو واضح کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان ایک ایسے قرض پر مبنی ترقیاتی ماڈل پر چل رہا ہے جو نہ پائیدار ہے اور نہ ہی حکمت عملی پر مبنی ہے۔
پاکستان کے سرمایہ کاری کے مستقبل کا انحصار معیشت کی سیاست سے آزادی، ریگولیٹری شفافیت، اور روایتی و ابھرتے ہوئے شعبوں (جیسے کرپٹو) کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر ہے۔ معدنی وسائل کی دولت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود، پاکستان خطرے میں ہے کہ وہ ساختی اصلاحات اور دانشمندانہ مالی نظم و نسق کے بغیر عالمی معیشت میں تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025