خواتین کی ٹیکنالوجی ایکسیلیریٹر پاکستان نے آٹھویں بیچ کے فاتحین کا اعلان کردیا
- تین خواتین کی زیرقیادت اسٹارٹ اپس کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 5 لاکھ روپے کی بلاواسطہ ایکویٹی گرانٹ فراہم کی گئی
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن نے انوونچرز گلوبل اور ولیج کیپیٹل کے اشتراک سے پاکستان میں ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر کے آٹھویں بیچ کا کامیابی سے اختتام کردیا، جس کے تحت کراچی میں منعقدہ گریجویشن تقریب میں خواتین کی زیرقیادت تین اسٹارٹ اپس کو مجموعی طور پر ایک کروڑ 5 لاکھ روپے کی بلاواسطہ ایکویٹی گرانٹ فراہم کی گئی۔
ایمن شفیق کی قائم کردہ ای وی اسکوائر نے پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 50 لاکھ روپے کا انعام حاصل کیا، جبکہ مناہل ظفر کی قائم کردہ بلوشا ایپ نے دوسری پوزیشن حاصل کرکے 30 لاکھ روپے وصول کیے۔ انوشہ شاہد کی قائم کردہ زوولٹا کو تیسری پوزیشن پر 25 لاکھ روپے دیے گئے۔
فاتحین کو مزید 6 ماہ تک رہنمائی اور مالی نگرانی بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ انہیں ویمن اِن ٹیک ایلومنائی نیٹ ورک کی تاحیات رکنیت بھی حاصل ہوگی۔
ایکسیلیریٹر پروگرام کا آغاز 30 بانیان کے 6 روزہ تربیتی پروگرام سے ہوا، جس کے بعد 10 خواتین کاروباری افراد کو 3 ماہ تک سرمایہ کاری کے لیے تیاری، حسبِ ضرورت معاونت اور ماہرین کی رہنمائی فراہم کی گئی۔
پروگرام کے تحت شرکا کو اپنے کاروباری ماڈلز، مسابقتی برتری، کاروبار کو وسعت دینے کی صلاحیت اور فنڈنگ کی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے کے مواقع بھی فراہم کیے گئے، جبکہ بیچ میں شامل زیادہ صلاحیت رکھنے والے اسٹارٹ اپس کے لیے دو مراحل پر مشتمل مالی معاونت بھی فراہم کی گئی۔
ویمن اِن ٹیک ایکسیلیریٹر ایسی خواتین کاروباری افراد کی معاونت کرتا ہے جو مارکیٹ اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے والے جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار قائم کررہی ہیں۔ سرمایہ کاری کے لیے تیاری، ابتدائی مرحلے کی گرانٹ اور ماہرین کی رہنمائی کے ذریعے پروگرام کا مقصد بانیان کو پائیدار انداز میں کاروبار وسعت دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور دیرپا اثرات مرتب کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج عادل صلاح الدین نے آٹھویں بیچ کے بانیان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کاروباری افراد کو اپنے کاروباری ماڈلز مضبوط بنانے اور رہنمائی، کاروباری مشاورتی معاونت، صنعتی روابط اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع کے ذریعے ترقی کے سفر کو تیز کرنے میں مدد دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ان بانیان کو اپنے کاروبار وسعت دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان کے کاروباری ماحول میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے معاونت فراہم کی۔‘‘ انہوں نے ہر بانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کاروبار کو اگلے مرحلے تک لے جاتے ہوئے مسلسل کامیابیاں حاصل کریں۔
کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے کہا کہ پاکستان کی خواتین کاروباری افراد اپنے جرات مندانہ خیالات کو ایسے کاروبار میں تبدیل کررہی ہیں جو روزگار پیدا کرنے کے ساتھ زندگیوں میں بہتری لارہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’برطانیہ کو ان کے عزم اور صلاحیتوں کی حمایت پر فخر ہے۔‘‘ انہوں نے رواں سال کے فاتحین کو مبارکباد دی اور اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن اور اس کے شراکت داروں کو خواتین کو اپنے کاروبار بڑھانے اور پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کے لیے درکار فنڈنگ، مہارتیں اور روابط فراہم کرنے پر سراہا۔
بانیان نے اپنے کاروباری منصوبے ایک جیوری کے سامنے پیش کیے، جس میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے آزاد غیر انتظامی ڈائریکٹر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن غیاث خان، ایف ایف سی کے بورڈ رکن اور پِلپ کے صدر سعد امان اللہ، یونی لیور پاکستان کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف حئی اور صحت کہانی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سارہ خرم شامل تھیں۔
پاکستان ایکسیلیریٹر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ فاؤنڈیشن کے عالمی ویمن اِن ٹیک پروگرام کا حصہ ہے، جو افریقہ، مشرق وسطیٰ اور پاکستان میں جاری ہے۔
پروگرام کے آغاز سے اب تک پاکستان ایکسیلیریٹر نے 200 سے زائد خواتین کی زیرقیادت اسٹارٹ اپس کو رہنمائی فراہم کی ہے اور 4 لاکھ 25 ہزار ڈالر سے زائد کی گرانٹ تقسیم کی ہے۔
عالمی سطح پر پروگرام کا مقصد 3 سال کے دوران پاکستان سمیت 12 ممالک میں 400 خواتین کاروباری افراد کی معاونت، 19 لاکھ ڈالر سے زائد کی ابتدائی مرحلے کی گرانٹس کی فراہمی، شریک مارکیٹوں میں 1,200 سے زائد روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خواتین بانیان کو ساتھی کاروباری افراد، فنڈنگ فراہم کرنے والوں اور صنعتی ماہرین کے عالمی نیٹ ورک سے منسلک کرنا ہے۔
اس پروگرام کا مقصد خواتین بانیان کو تربیت، روابط، رہنمائی اور ابتدائی مرحلے کی مالی معاونت تک رسائی فراہم کرکے ایسے کاروبار قائم کرنے، وسعت دینے اور قیادت کرنے میں مدد دینا ہے جو ان کی برادریوں میں بامعنی اور مثبت اثرات مرتب کریں۔



















Comments